تین دہائیوں بعد وطن واپسی کا خواب سجائے ایک بنگالی کی کہانی
28 فروری 2026
پاکستان میں مقیم بنگالی برادری شناخت اور بنیادی حقوق کے لیے طویل عرصے سے جدوجہد کر رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سفارتی نرمی بنگالی کمیونٹی کے لیے نئی امید کا سبب بنی ہے۔ بنگلہ دیش کے نو منتخب وزیرِاعظم طارق رحمان کے منصب سنبھالنے سے پاک–بنگلہ تعلقات میں بہتری کی توقع بڑھ گئی ہے ساتھ ہی پاکستان میں مقیم بنگالی باشندے اب اپنے وطن جانے اور اپنے خاندانوں کے ملاپ کا خواب پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 14 سال بعد براہِ راست پروازوں کی بحالی گزشتہ ماہ عمل میں آئی، جسے دونوں ممالک کے ایک زمانے میں منجمد رہنے والے تعلقات میں حالیہ گرمجوشی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ 1971 تک ایک ہی ملک کا حصہ رہنے والے ان ممالک کے روابط میں یہ مثبت پیش رفت 2024 میں بنگلہ دیش میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے نتیجے میں نئی قیادت کے ابھرنے کے بعد ممکن ہوئی ہے۔
گھر واپسی کا خواب پورا ہونے کی اُمید
ساٹھ سالہ شاہ عالم کی آنکھیں یہ کہتے ہوئے نم ہو گئیں، ''میں ضرور جاؤں گا… عیدالاضحیٰ کے بعد، اپنے بیٹے کے ساتھ ۔‘‘
شاہ عالم تقریباً تیس برس پہلے بنگلہ دیش سے پاکستان صرف چند ہفتوں کے لیے آئے تھے ۔ ارادہ بس ایک مختصر ملاقات کا تھا، لیکن دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی، مشکل مالی حالات اور سفری پابندیوں نے اُنہیں کراچی کے بڑے مگر بے رحم شہر میں ہمیشہ کے لیے روک لیا۔
ایک زندگی جو رک گئی، لیکن وقت نہیں رکا
آج شاہ عالم خشک مچھلیاں بیچ کر گزارا کرتے ہیں—ایک محنت کش کی طرح، خاموش لیکن تھکے بغیر۔ مگر ان برسوں نے اُن کی زندگی سے بہت کچھ چھین لیا۔
دریں اثنا، بنگلہ دیش میں اُن کے ماں باپ اور پہلی بیوی ایک ایک کر کے اس دنیا سے رخصت ہو گئے—اور وہ لمحہ جسے وہ کبھی روک نہ پائے، بس دور بیٹھے سہتے رہے۔ شاہ عالم کہتے ہیں، ''والدین چلے گئے، میری بیوی بھی… میں کچھ نہیں کر سکا۔‘‘
امید کی پہلی کرن
گزشتہ ماہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 14 سال بعد براہِ راست پروازوں کی بحالی نے اُن جیسے ہزاروں لوگوں کے دل میں امید جگائی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیانسفارتی گرمجوشی میں اضافہ—خصوصاً 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے بعد بنگلہ دیش میں نئی قیادت کے آنے سے واپس گھر جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور شاہ عالم نے اس تبدیلی کو ایک اشارہ سمجھ لیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ مالی مشکلات اب بھی ہیں، مگر وہ فیصلہ کر چکے ہیں۔
''پیسے کا مسئلہ ہے… مگر جاؤں گا۔ دیر ہو گئی ہے۔‘‘
واپسی کا سفر — ایک ادھوری کہانی پوری ہونے کو اب جب کہ راستے نرم پڑ رہے ہیں، شاہ عالم اپنا کھویا ہوا رشتہ، اپنی جائے پیدائش اور اپنے باقی خاندان سے دوبارہ جڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ شاید یہ سفر صرف گھر واپسی کا نہیں—بلکہ ایک ایسی زندگی واپس لینے کا ہے جو برسوں پہلے حالات میں جبر کہیں گم ہو گئی تھی۔ اور وہ بار بار یہی کہتے ہیں ،''میں گھر جاؤں گا… اب رکنے کا وقت نہیں۔‘‘
شاہ عالم،جنہوں نے پاکستان میں دوسری شادی کر لی تھی، اب بھی بنگلہ دیش میں اپنی زرعی زمین اور آبائی گھر کے مالک ہیں۔
انہوں نے کراچی میں اے ایف پی کو بتایا، ''سب کچھ وہاں ہے۔ میں یہاں پھنس گیا تھا۔‘‘
کراچی میں وہ مشہور بنگالی مارکیٹ کے قریب خشک مچھلی اور جھینگے بیچ کر روزانہ 7 سے 9 ڈالر کماتے ہیں تاکہ گزر بسر ہو سکے۔ وہ کہتے ہیں، ''میں واپس جانا چاہتا تھا، لیکن کوئی راستہ نہیں تھا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات اچھے نہیں تھے۔ میرے پاس گھر واپس جانے کے لیے پیسے بھی نہیں تھے۔‘‘
اب وہ اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’میں اپنے بڑے بھائی اور اپنی شادی شدہ بیٹی کو دیکھنا چاہتا ہوں جو بنگلہ دیش میں رہتے ہیں۔‘‘
شناخت کی تلاش اور گھر واپسی کی خواہش
پاکستان میں اس وقت اندازاً دس لاکھ سے زائد نسلی بنگالی رہتے ہیں، جن میں سے بڑی تعداد اُن لوگوں کی ہے جو 1971 کی جنگ کے دوران یہاں منتقل ہوئے تھے، جب مشرقی پاکستان نے آزادی کا اعلان کر کے بنگلہ دیش کی صورت اختیار کی۔
170 ملین آبادی والے بنگلہ دیش میں اکثریت نسلی و لسانی طور پر بنگالی شناخت رکھتی ہے، جبکہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک ، خصوصاً بھارت میں بھی لاکھوں بنگالی آباد ہیں۔
مگرپاکستان میں موجود بنگالی کمیونٹی طویل عرصے سے شکایت کرتی آئی ہے کہ نہ تو انہیں مکمل شہریت دی جاتی ہے اور نہ ہی وہ تعلیم، کاروبار اور جائیداد کے مواقع تک رسائی حاصل کر پاتے ہیں۔
20 سالہ حسین احمد، جو کراچی کی مچھر کالونی میں رہتے ہیں—ایک ایسی بستی جہاں زیادہ تر آبادی بنگالیوں پر مشتمل ہے—ابھی تک پاکستانی شہریت یا شناختی کارڈ سے محروم ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ''میں بنگلہ دیش جانا چاہتا ہوں، لیکن کیسے جاؤں؟ میرے والد کے پاس بھی شناختی کارڈ نہیں، تو مجھے کیسے ملے گا؟‘‘
کراچی میں بنگالی بستیوں کی ایک بڑی تعداد ہے، جن کے رہائشیوں کے مطابق یہ علاقے اُس وقت سے آباد ہیں جب مشرقی پاکستان اب بھی پاکستان کا حصہ تھا۔
بہت سے بنگالی اپنے محلوں سے باہر نکلنے سے بھی گریز کرتے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے اُن سے پاکستانی شہریت ثابت کرنے کے لیے سوال نہ کریں۔
ادارت: جاوید اختر