1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاک و ہند میں تاریخ نویسی اور نصابی سیاست

1 فروری 2026

برطانوی راج سے لے کر آج تک پاکستان اور بھارت میں تاریخ کو سیاست اور نصاب کے ذریعے نئی شکل دینے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ دونوں ممالک میں تاریخ نویسی سیاست، مذہب اور اقتدار کے زیر اثر رہی ہے۔

https://p.dw.com/p/57pBT
پاکستان میں بھی نصاب کی کتابیں حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ بدلتی رہیں۔تصویر: Amjid Bloch

ہندوستان میں جب برطانوی حکومت آئی تو مغل سلطنت زوال کا شکار تھی اور پورا ملک چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم تھا۔ اس وجہ سے برطانیہ نے ایک ایک کر کے ریاستوں کو شکست دے کر ملک پر اپنا اقتدار قائم کیا۔جب اس غیر ملکی اقتدار کے خلاف جدوجہد کا آغاز ہوا تو سیاسی رہنماؤں نے اس کمی کو محسوس کیا کہ ہندوستان متحد نہیں ہے۔ یہ ایک قوم بھی نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی مشترکہ کلچر ہے۔

ہندوستان کے مورخین اور دانشوروں نے ایک مشترک ماضی اور کلچر کے لیے جدوجہد کی۔ تاریخ میں ان کے لیے سب سے زیادہ مؤثر عہد مغلوں کا تھا۔ ان کے دربار میں مسلمان اور ہندو امراء سرکاری عہدیدار تھے اور سلطنت کے معاملات میں حصہ لیتے تھے۔ دونوں مذاہب کے تہوار دربار میں منائے جاتے تھے اور اسی وجہ سے آج بھی بہت ساری رسومات ایک دوسرے سے ملتی جلتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس پر تارا چند کی کتاب "Influence of Islam on Hinduism"  اور محمد عمر کی کتاب "Influence of Hinduism on Islam" سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں ایک دوسرے کے مذاہب سے واقف تھے۔

بھارت میں اس وقت دو قسم کی تاریخ نویسی ہے، ڈاکٹر مبارکتصویر: privat

1855ء میں جب کانگریس کا قیام عمل میں آیا تو وہ ایک سیکولر سیاسی جماعت تھی۔ ہندوستان کی سیاست میں وقت کے ساتھ تبدیلیاں آتی رہیں۔ گاندھی جی نے سب سے پہلے مذہب کو سیاست کا حصہ بنایا، جو کم ہونے کے بجائے بڑھتا رہا۔ 1919ء میں جب تحریک خلافت کی ابتدا ہوئی تو مسلمانوں کی وفاداریاں سلطنت عثمانیہ کی جانب ہو گئیں اور اس طرح  ہندو اور مسلمان دو علیحدہ جماعتوں میں تقسیم ہو گئے۔ ساوارکر کے ہندو توا کے نظریے نے ایک طرح سے سے مسلمانوں کو غیر ملکی بنا دیا۔

اس دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم عمل میں آئی۔ تقسیم کے باوجود دونوں جانب سے تعصب اور نفرت کا اظہار ہوتا رہا۔ اس نے دونوں ملکوں کی تاریخ نویسی کو بدل ڈالا، جس کا سب سے زیادہ اثر نصاب کی کتابوں پر ہوا۔ نصاب کی کتابیں حکمرانوں کے اقتدار کے ساتھ بدلتی رہیں۔ ہندوستان میں آزادی کے بعد نصاب کی کتابیں ان پروفیشنل مورخین سے لکھوائی گئیں، جنہوں نے تاریخ کو سیکولر نقطہء نظر سے لکھا تاکہ یہ نظریہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تعصب کا خاتمہ کرے۔

لیکن ہندوستان کی سیاست میں بھی تبدیلیاں آرہی تھیں۔1977ء میں مورارجی دیسائی ملکی وزیراعظم بنے اور ان  کی حکومت میں مذہبی رجحانات کی ابتدا ہوئی اور کانگریس کے زمانے کی نصابی کتابوں کی بجائے نئی درسی کتابیں لکھی گئیں جن میں آہستہ آہستہ مذہبی جذبہ شامل ہوا۔

1966 میں جب وجے پائے کی حکومت کے دور میں درسی کتابوں کو ہندو مذہب کے تحت تبدیل کیا گیا۔ اس وقت تاریخ کا مفہوم بھی بدل گیا۔ ہندو ہیروز کو تاریخ کے اندھیرے سے نکال کرعظیم بنایا گیا، مسلمانوں اور مسیحیوں کو غیر ملکی کہہ کر ان کی بھارتی شہریت سے انکار کیا گیا۔

بھارت میں اس وقت دو قسم کی تاریخ نویسی ہے:

  1. پروفیشنل مورخین جو تاریخ لکھ رہے ہیں، وہ معیاری اور تحقیقی ہے۔

  2. درسی کتابیں، جو ہندو مذہب کی بنیاد پر لکھی گئی ہیں اور تاریخ کو مسخ کرتی ہیں۔

پاکستان میں بھی نصاب کی کتابیں حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ بدلتی رہیں۔ تقسیم کے فوراً بعد پاکستان کے پاس درسی کتابیں سکولوں کے لیے نہیں تھیں، اس لیے برطانوی دور کی کتابیں سکولوں میں پڑھائی جاتی رہیں۔ پاکستان میں درسی کتابوں کی تبدیلی کی ابتدا ایوب خان کے زمانے میں ہوئی۔ اس کے بعد سے نصابی کتابوں میں آگاہی اور شعور پیدا کرنے کے بجائے مذہبی جذبات کو ابھارا جاتا رہا۔ موجودہ دور میں نصابی کتابوں کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ سوچ اور تنقیدی فکر کو کمزور کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں علم بے معرفت بن جاتا ہے۔ ایسا علم جس کی نہ معاشرے کو ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی عملی قدر باقی رہتی ہے۔ جب کسی قوم کو یہ بے معرفت علم پڑھایا جاتا ہے تو اس میں تنگ نظری اور تعصبات کے جذبات ابھرتے ہیں، حالانکہ علم کا مقصد روشن خیالی پیدا کرنا ہے۔

علی گڑھ تحریک اور تعلیمی اصلاحات: ایک تاریخی جائزہ

نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں