1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی، کب کیا ہوا؟

عاطف توقیر اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز کے ساتھ | ادارت | شکور رحیم
17 مارچ 2026

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ کابل میں ایک ہسپتال پر پاکستانی فضائی حملے میں چار سو افراد ہلاک ہو گئے۔ اسلام آباد نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی حالیہ عرصے میں بڑھی ہے۔

https://p.dw.com/p/5AXyH
حملے کے بعد کا منظر
ایک طالبان جنگجو حملے کے بعد جائے واقعہ پرتصویر: Wakil Kohsar/AFP/Getty Images

 افغان طالبان کے مطابق پاکستان کے ایک فضائی حملے میں کابل میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 400 سے زائد افراد ہلاک اور 265 زخمی ہوئے۔ اسلام آباد نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک فوجی کیمپ اور دہشت گردی کے ڈھانچے‘‘ کو نشانہ بنایا۔

ماضی میں افغان طالبان کو پاکستان کا حلیف سمجھا جاتا تھا، مگر حالیہ کچھ عرصے میں طالبان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جب کہ فریقین ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔

تیرہ مارچ

 افغان طالبان کے مطابق پاکستان نے قندھار ایئرپورٹ کے قریب نجی ایئر لائن کام ایئر کے فیول ڈپو پر بمباری کی جبکہ کابل کے رہائشی علاقوں پر بھی حملے کیے گئے، جن میں چار افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے۔

پاکستانی حملے کے بعد افغان طالبان فوجی گاڑیوں میں جائے واقعہ کی جانب جا رہے ہیں
پاکستانی حملے کے بعد افغان طالبان فوجی گاڑیوں میں جائے واقعہ کی جانب جا رہے ہیںتصویر: Wakil Kohsar/AFP/Getty Images

بارہ مارچ

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین کی ثالثی کی کوششوں، بشمول صدر شی جن پنگ کے پیغام، نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد دی۔ فروری کے آخر میں پاکستان میں چینی سفیر جیانگ زائیدونگ اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات میں چینی قیادت کا پیغام بھی شامل تھا جس میں کشیدگی ختم کرنے پر زور دیا گیا۔

تین مارچ

پاکستان اور افغانستان کی افواج کے درمیان سرحد کے مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے خبردار کیا کہ چھ دنوں میں 42 شہری ہلاک ہوئے۔

ستائیس فروری

پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق فضائی حملوں میں افغانستان میں 22 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ فوجی بیان میں کہا گیا کہ 24 گھنٹوں میں کم از کم 12 پاکستانی فوجی جبکہ 274 طالبان اہلکار اور جنگجو مارے گئے۔

طالبان جنگجو
حالیہ عرصے میں دونوں طالبان اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی ہےتصویر: AFP

گزشتہ برس کے اہم واقعات

تین دسمبر

 سعودی عرب میں ہونے والے امن مذاکرات کا نیا دور بھی کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گیا۔ ان مذاکرات کی میزبانی قطر، ترکی اور سعودی عرب نے کی، جن میں پاکستان کی فوج، انٹیلی جنس اداروں اور دفتر خارجہ کے نمائندے شامل تھے۔

پچیس نومبر

پاکستان کے فضائی حملوں میں افغانستان کے مشرقی صوبوں میں نو بچے اور ایک خاتون ہلاک ہوئے، جس پر افغان طالبان نے ردعمل میں پاکستان پر جوابی حملے کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

اٹھائیس اکتوبر

 قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرات میں دونوں فریق مشترکہ نکات پر متفق نہ ہو سکے، جس کے باعث امن مذاکرات ناکام ہو گئے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپیں اور چمن کی عوام کا خوف

انیس اکتوبر

 قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے مزید ملاقاتوں پر بھی رضامندی ظاہر کی۔

بارہ اکتوبر

پاکستان اور افغانستان کے درمیان رات بھر جاری رہنے والی سرحدی جھڑپوں میں درجنوں طالبان جنگجو مارے گئے۔ یہ طالبان کے کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے شدید لڑائی تھی۔