1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان نے جنگ بندی کی تجویز امریکہ اور ایران کے حوالے کر دی

جاوید اختر روئٹرز کے ساتھ
6 اپریل 2026

روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ فوری جنگی بندی کے لیے امریکہ اور ایران کو پاکستان کی جانب سے ایک منصوبہ موصول ہوا ہے۔ یہ پیر کے روز ہی نافذ ہو سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

https://p.dw.com/p/5BjbC
ایران کے ساتھ جنگ کے خلاف امریکہ کے ٹائمز اسکوائر ریکروٹنگ سینٹر کے سامنے احتجاج
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ جاری ہے۔ امریکہ نے اسے 'آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو 'وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہےتصویر: Camara Porter/AdMedia/picture alliance

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سےاطلاع دی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے پاکستان کی جانب سے تیار کردہ تیار کردہ امن منصوبہ ایران اور امریکہ کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں دو مرحلوں پر مشتمل حکمت عملی شامل ہے: پہلے فوری جنگ بندی، او پھر اس کے بعد جامع معاہدہ کیا جائے گا۔

روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا، ''تمام نکات پر آج ہی اتفاق ضروری ہے‘‘ اور ابتدائی مفاہمت کو ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی شکل دی جائے گی، جسے پاکستان کے ذریعے  حتمی شکل دی جائے گی، کیونکہ ان مذاکرات میں پاکستان رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔

اس سے قبل امریکی ویب سائٹ اگزیوس نے اتوار کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ، ایران اور علاقائی ثالث ایک ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی پر بات کر رہے ہیں، جو دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کا حصہ ہو سکتی ہے اور بالآخر جنگ کے مستقل خاتمے تک لے جا سکتی ہے۔

ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر پوری رات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں رہے۔

ایران جنگ: پاکستان کی امن کوششیں اور بھارت کی مایوسی؟

 تجویز ہے کیا؟

اس تجویز کے تحت فوری جنگ بندی نافذ ہو گی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی، جبکہ 15 سے 20 دن کے اندر ایک وسیع معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اس مجوزہ معاہدے کو عارضی طور پر 'اسلام آباد معاہدہ‘ کا نام دیا گیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کے لیے ایک علاقائی فریم ورک شامل ہوگا اور حتمی بالمشافہ مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے۔

امریکہ اور ایران کے حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

ایرانی حکام اس سے قبل روئٹرز کو بتا چکے ہیں کہ تہران ایک مستقل جنگ بندی چاہتا ہے، جس کے ساتھ یہ ضمانت ہو کہ امریکہ اور اسرائیل دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق ایران کو پاکستان، ترکی اور مصر سمیت مختلف ثالثوں کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔

ایران جنگ، جنگ بندی کی کوششیں اور زمینی کارروائی کے امکانات

جوہری ہتھیار نہ بنانے کے وعدے کے بدلے پابندیوں میں نرمی

ذرائع کے مطابق حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے وعدے کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہو گی۔

دو پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ سفارتی اور عسکری سطح پر کوششوں میں تیزی کے باوجود ایران نے تاحال حتمی رضامندی ظاہر نہیں کی۔

ایک ذریعے نے کہا، ''ایران نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا، ‘‘اور مزید بتایا کہ پاکستان، چین اور امریکہ کی حمایت یافتہ عارضی جنگ بندی کی تجاویز پر بھی تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

چینی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مصر ، سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے وزیر خارجہ  نے اسلام آباد میں ملاقات کی، جہاں انہوں نے ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے جاری تنازع کے تناظر میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا
اس تجویز کے تحت فوری جنگ بندی نافذ ہو گی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی، جبکہ 15 سے 20 دن کے اندر ایک وسیع معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گیتصویر: Muammer Tan/Turkish Foreign Ministry/REUTERS

ایک دوسرے پر حملے جاری

یہ تازہ سفارتی کوشش ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں تنازع کے فوری خاتمے پر زور دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر جلد جنگ بندی نہ ہوئی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

اس تنازع نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں بے یقینی کو بڑھا دیا ہے، اور تاجر اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کوئی بھی پیش رفت آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کو کیسے متاثر کر سکتی ہے۔

خیال رہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ جاری ہے۔ امریکہ نے اسے 'آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو 'وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔

ادارت: شکور رحیم

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔