پاکستانی معیشت اندازوں سے بہتر ترقی کرے گی، گورنر اسٹیٹ بینک
11 فروری 2026
پاکستان کے مرکزی بینک کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ملکی معیشت کی شرح نمو 4.75 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کا یہ بیان عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کی اقتصادی ترقی کی درجہ بندی میں حالیہ کمی کی نفی کرتا ہے۔ روئٹرز کو بھجوائے گئے تحریری جوابات میں گورنر نے مؤقف اختیار کیا کہ معاشی بحالی سرخیوں میں آنے والے برآمدی اعداد و شمار سے کہیں زیادہ وسیع اور پائیدار ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جنوری میں اپنے اجلاس کے دوران مالی سال 2026 ءکے لیے شرح نمو کا تخمینہ 3.75 سے بڑھا کر 4.75 فیصد کر دیا تھا، جو پہلے کے تخمینے سے 0.5 فیصد زیادہ ہے۔ یہ فیصلہ مالی سال کے پہلے نصف میں برآمدات میں کمی اور تجارتی خسارے میں اضافہ دیکھنے کے باوجود کیا گیا ہے۔ گورنر جمیل احمد کا کہنا تھا کہ تخمینوں میں فرق غیر معمولی نہیں ہوتا اور یہ مختلف عوامل کی عکاسی کرتا ہے، جن میں آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ میں سیلاب سے متعلق جائزے بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مختلف ذرائع اور اشاریے، ساتھ ہی مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار، معیشت کے تینوں شعبوں میں ہمہ گیر بحالی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سیلاب کے باوجود زرعی شعبہ مستحکم رہا اور حتیٰ کہ اپنے اہداف سے بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔
گورنر نے مزید کہا کہ جون 2024 سے اب تک پالیسی ریٹ میں مجموعی طور پر 1150 بیسس پوائنٹس کی کمی کے بعد مالیاتی حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اس کے مکمل اثرات ابھی سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے بقول یہ اقدامات قیمتوں اور معاشی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے نمو کو سہارا دے رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ مرکزی بینک نے اپنی بنیادی شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھی، جو شرح میں کمی کی توقعات کے برعکس تھا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ تخمینوں میں یہ اختلاف ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب پاکستان 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے نکل رہا ہے۔
برآمدات میں کمی، ترسیلات زر کا سہارا
ماضی میں پاکستان میں شرح نمو میں تیزی اکثر کرنسی پر دباؤ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا سبب بنتی رہی ہے، جس کے باعث موجودہ بحالی کی پائیداری سرمایہ کاروں کے لیے اہم سوال ہے۔ جمیل احمد نے کہا کہ جولائی سے نومبر کے دوران بڑی صنعت میں 6 فیصد نمو اور دیگر اشاریے طلب میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اگرچہ مالی سال کے پہلے نصف میں برآمدات میں کمی آئی ہے تاہم گورنر کے مطابق یہ کمی عالمی منڈی میں کم قیمتوں اور سرحدی رکاوٹوں کا نتیجہ تھی، نہ کہ معاشی سرگرمی میں کمی کا۔
ان کا کہنا تھا کہ جاری کھاتوں کا خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، کیونکہ مضبوط ترسیلات زر وسیع تجارتی خسارے کا ازالہ کر رہی ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر کو پروگرام کے اہداف سے اوپر لے جا رہی ہیں۔ انہوں نے عید سے قبل ترسیلات میں اضافے کی بھی توقع ظاہر کی۔
گورنر کے مطابق اسٹیٹ بینک باقاعدگی سے بینکوں کے درمیان مارکیٹ سے ڈالر خرید رہا ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کیا جا سکے اور اس حوالے سے اعداد و شمار بھی جاری کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ معاشی استحکام میں بہتری آئی ہے لیکن مضبوط اور پائیدار نمو کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔
ادارت: عدنان اسحاق