1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ٹرمپ سے اختلاف کے باوجود میرس امریکہ سے اچھے روابط کے خواہاں

مقبول ملک روئٹرز اور ڈی پی اے کے ساتھ
6 مئی 2026

وفاقی جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایران جنگ کے موضوع پر اختلاف رائے کے باوجود بحر اوقیانوس کے آر پار روایتی پارٹنرز کے مابین اچھے تعلقات پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔

https://p.dw.com/p/5DNGR
امریکی صدر ٹرمپ، دائیں، اور جرمن چانسلر میرس، مارچ کی تین تاریخ کو واشنگٹن میں لی گئی ایک تصویر
امریکی صدر ٹرمپ، دائیں، اور جرمن چانسلر میرس، مارچ کی تین تاریخ کو واشنگٹن میں لی گئی ایک تصویرتصویر: Kay Nietfeld/dpa/picture alliance

جرمن دارالحکومت برلن سے بدھ چھ مئی کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق قدامت پسند سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین سے تعلق رکھنے والے جرمن چانسلر میرس نے کہا کہ ان کا پختہ یقین ہے اور وہ اس بات کے لیے مسلسل کوشاں بھی ہیں کہ ٹرانس اٹلانٹک تعلقات بہت اچھے رہنا چاہییں۔

ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے ورنہ پہلے سے بھی شدید بمباری کا سامنا کرنا پڑے گا، ٹرمپ

جرمنی کی دونوں قدامت پسند یونین جماعتوں سی ڈی یو اور سی ایس یو کی سوشل ڈیموکریٹس کی جماعت ایس پی ڈی کے ساتھ مل کر بنائی گئی وسیع تر مخلوط حکومت کے سربراہ کے طور پر فریڈرش میرس نے بدھ کے روز ملکی نشریاتی ادارے زیڈ ڈی ایف کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ''(صدر ٹرمپ اور میں) ہمارے درمیان اختلاف ہے، لیکن میں اس اختلاف رائے کے ساتھ اچھی طرح زندہ رہ سکتا ہوں۔‘‘

فریڈرش میرس کے الفاظ میں، ''ہماری فون پر باقاعدگی سے بات چیت ہوتی ہے۔ لیکن ایک اچھی شراکت داری کے لیے لازمی ہوتا ہے کہ وہ فریقین کے مابین اختلاف رائے کو بھی بخوبی برداشت کر سکے۔‘‘

آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کی نئی امریکی کوششوں کا آغاز

میرس، دائیں، کا ایران کے ہاتھوں امریکہ کی ’سبکی‘ سے متعلق بیان ٹرمپ (بائیں) انتظامیہ کو پسند نہیں آیا تھا
میرس، دائیں، کا ایران کے ہاتھوں امریکہ کی ’سبکی‘ سے متعلق بیان ٹرمپ (بائیں) انتظامیہ کو پسند نہیں آیا تھاتصویر: Guido Bergmann/BPA/dts Nachrichtenagentur/IMAGO

میرس کا متنازعہ بیان اور ٹرمپ کی تنقید

امریکہ اور اسرائیل کے 28 فروری کو ایران پر فضائی حملوں کے ساتھ جس ایران جنگ کا آغاز ہوا تھا اور جس میں اس وقت توسیع شدہ لیکن غیر معینہ فائر بندی پر عمل درآمد جاری ہے، اس کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش تھی کہ نیٹو کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے یورپی ممالک بھی اس جنگ میں واشنگٹن کا ساتھ دیتے۔

برطانوی بادشاہ چارلس کا امریکی کانگریس سے اہم خطاب

لیکن یورپی ممالک نے اجتماعی طور پر ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان میں یورپی یونین سے باہر کا یورپی ملک اور یورپ میں امریکہ کا روایتی طور پر قریب ترین اتحادی برطانیہ بھی شامل تھا۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی طرف سے لندن کے ایران جنگ میں شامل ہونے سے انکار پر امریکی صدر نے برطانیہ اور اسٹارمر دونوں پر کڑی تنقید بھی کی تھی۔

ایران جنگ: ٹرمپ اور کانگریس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

تین بڑے یورپی ممالک کے رہنما اور تینوں امریکہ کے کہنے پر ایران جنگ میں شامل ہونے سے انکاری: (دائیں سے بائیں) فرانس کے صدر ماکروں، جرمنی کے چانسلر میرس اور برطانیہ کے وزیر اعظم اسٹارمر
تین بڑے یورپی ممالک کے رہنما اور تینوں امریکہ کے کہنے پر ایران جنگ میں شامل ہونے سے انکاری: (دائیں سے بائیں) فرانس کے صدر ماکروں، جرمنی کے چانسلر میرس اور برطانیہ کے وزیر اعظم اسٹارمرتصویر: Thomas Kienzle/REUTERS

جہاں تک جرمنی کا تعلق ہے، تو اس نے بھی فرانس، اسپین اور اٹلی کی طرح ایران جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

پھر جرمن چانسلر میرس نے اپنے ایک بیان میں یہ بھی کہہ دیا تھا کہ واشنگٹن کی تہران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جو بات چیت ہو رہی ہے، اس میں ایران امریکہ کی 'سبکی‘ کا باعث بن رہا ہے۔

جرمن سربراہ حکومت کا یہ بیان تجزیہ کاروں کے فوری اندازوں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کو پسند نہیں آیا تھا۔

اسی لیے اس پر اپنے ردعمل میں صدر ٹرمپ نے جرمن چانسلر پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ فریڈرش ''میرس نہیں جانتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔‘‘

ادارت: شکور رحیم

امریکہ کا جرمنی سے ہزاروں فوجی واپس بلانے کا منصوبہ

Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔