1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ہنر کے بغیر روزگار نہیں، پاکستان میں تربیت کی بڑھتی ضرورت

عثمان چیمہ | ادارت | عاطف توقیر
1 نومبر 2025

پاکستان میں نوجوانوں میں بے روزگاری کا مسئلہ شدید ہے، تاہم زیادہ بڑا مسئلہ ہنرمند افراد کی عدم موجودگی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کو تریبت کے شعبے میں ٹھوس قدم اٹھانا ہوں گے تاکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھیں۔

https://p.dw.com/p/52pTC
ایک پاکستانی فیبرک فیکٹری
پاکستان ہنرمند افراد کی شدید کمی کا شکار ہےتصویر: DW

راولپنڈی میں رفاقت حسین ہر صبح دیہاڑی کی تلاش میں ایک دکان کے باہر کھڑا ہوتا ہے۔ اکثر کوئی کام نہیں ملتا۔ اس کا کہنا ہے، "اب لوگوں کو ہنر مند بندے چاہئیں۔ میں صرف عام مزدور ہوں اور میری شاید لوگوں کو زیادہ ضرورت نہیں ہے۔"

رفاقت نے پچھلے سال سعودی عرب جانے کی کوشش کی۔ اس نے کاغذی کارروائی بھی کسی طور مکمل کر لی، یہاں تک کہ قرض بھی لیا۔ لیکن آخری مرحلے پر بیرون ملک آجر نے اسے مسترد کر دیا۔ رفاقت نے بتایا کہ آجر کا کہنا تھا، ’’ہنر نہیں تو نوکری نہیں۔ وہ اب صرف تربیت یافتہ ورکرز ہی لیتے ہیں۔‘‘ رفاقت کی آواز دھیمی ہے اور مایوسی صاف جھلکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے، ''ملک میں بھی عام مزدوری ختم ہو رہی ہے۔ ہر چیز کے لیے ہنر چاہیے۔‘‘

اس طرح کی کہانیاں اب عام ہوتی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں بیروزگاری کا مسئلہ صرف نوکریوں کی کمی کا نہیں، بلکہ ہنر مند افرادی قوت کی کمی کا بھی ہے۔ سرکاری بیروزگاری کی شرح تقریباً چھ فیصد ہے، لیکن نوجوانوں میں یہ شرح دگنی سمجھی جاتی ہے۔ ہر سال تقریباً 17 سے 19 لاکھ نوجوان لیبر مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر کے پاس موجودہ دور کے کاموں کے لیے درکار مہارت نہیں ہوتی۔

ایک پاکستانی فیبرک فیکٹری
صنعتوں کو شکایت ہے کہ انہیں ہنرمند مزدور نہیں ملتےتصویر: DW

سرفراز ظہور چیمہ، جو ایک مین پاور ریکروٹمنٹ کمپنی کے مالک ہیں اور پاکستان اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں، کہتے ہیں کہ ہماری افرادی قوت کی طلب مشرق وسطیٰ سے یورپ تک موجود ہے، مگر افسوس ہم اپنے لوگوں کو ان ملکوں کی ضرورت کے مطابق تیار نہیں کر پا رہے۔

ان کا کہنا ہے کہ عملی اور تکنیکی تربیت کی کمی کی وجہ سے ملک عالمی سطح پر دستیاب روزگار کے مواقع سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہا۔ "حکومت کو چاہیے کہ ہنرمندی کی تربیت مختلف شعبوں میں ان ممالک کی ضروریات کے مطابق فراہم کرے جہاں مزدوروں کی ضرورت ہے۔ اس سے لوگوں کو روزگار ملے گا اور ملک کو زر مبادلہ بھی حاصل ہو گا۔‘‘

عام شہری اس مسئلے کو کیسے دیکھتے ہیں؟

عام گھروں میں بھی ہنر مند مزدوروں کی کمی نے پریشانی پیدا کر رکھی ہے۔ اسلام آباد کے رہائشی ماجد محمود کہتے ہیں کہ ایک اچھا پلمبر یا الیکٹریشن ڈھونڈنا مشکل ہو گیا ہے۔ ’’یا تو وہ کام جانتے نہیں یا ایک چیز ٹھیک کر کے دوسری خراب کر دیتے ہیں۔‘‘ ماجد کا کہنا ہے کہ اچھا مالی تک ڈھونڈنا مشکل ہے۔ لوگ موجود ہیں لیکن وہ کام نہیں جانتے۔

پاکستان میں یہ خلا تقریباً ہر شعبے میں محسوس کیا جا رہا ہے ۔ گاڑیوں کی مرمت ہو، الیکٹریکل ورک ہو یا تعمیراتی کام ہر جگہ ایک ہی شکایت نظر آتی ہے کہ کام تسلی بخش نہیں اور اس وجہ سے کام کرنے والے اور کروانے والے دونوں ہی پریشان نظر آتے ہیں۔

پاکستان نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مختلف تربیتی پروگرام شروع کر رکھے۔ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ ادارے بنیادی اور اعلیٰ درجے کی ٹریڈ کورسز پیش کرتے ہیں۔ ہنرمند پاکستان اور کامیاب جوان جیسے منصوبے اس مقصد کے لیے شروع کیے گئے لیکن تربیت کا حجم اب بھی بہت کم ہے۔

ایک پاکستانی فیبرک فیکٹری
ہنر نہ ہونے کی وجہ سے عام افراد کو روزگار کے حصول میں مشکلات ہوتی ہیںتصویر: DW

پاکستان کو ٹریننگ کے میدان میں بین الاقوامی تعاون بھی حاصل ہے۔ جی آئی زیڈ ایک جرمن ادارہ ہے اور یہ ادارہ پاکستان میں بہت سے مقامی اداروں کے ساتھ مل کر لوگوں کو تربیت فراہم کر رہا ہے اور اس نے بہت سے ہاسپٹیلٹی ورکرز، آٹو ٹیکنیشنز اور انڈسٹریل مکینکس کی کامیاب تربیت کی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے پاکستانی حکومت کو اپنا کردار بڑھانا پڑے گا تب شاید اس خلا کو پر کیا جا سکے۔

پاکستان میں زیادہ تر مارکیٹ بغیر ضابطے کے چل رہی ہے۔ کوئی بھی بغیر تربیت کے خود کو پلمبر یا الیکٹریشن کہہ سکتا ہے۔ رہائشی ماجد محمود کا خیال ہے کہ یہ بدلنا چاہیے۔ ’’ایک نظام ہونا چاہیے۔ لوگوں کو تربیت اور لائسنس ملنے چاہئیں۔ ورنہ نقصان دونوں کا ہے۔ مزدور کا بھی اور کام دینے والے کا بھی۔‘‘

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ پاکستان کو تیزی سے قدم اٹھانا ہوں گے۔ اگر بڑے پیمانے پر ہنر سے جڑی تربیت اور روزگار کی باقاعدہ راہیں نہ بنیں تو نوجوان آبادی طویل مایوسی اور عدم استحکام میں بدل سکتی ہے۔

فرنیچر سازی کے ذریعے روزگار کے مواقع

تعلیم اور بین الاقوامی امور کے ماہر کاشف مرزا کہتے ہیں، ''پاکستان کو ملک میں اسکلز ایکو سسٹم قائم کرنا ہوگا تاکہ نوجوان ملک اور بیرون ملک روزگار حاصل کر سکیں۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم اور مہارت کے فروغ کے لیے بجٹ میں اضافہ ضروری ہے۔

کاشف مرزا کہتے ہیں، پاکستان کو پانچ لاکھ فری لانسرز تیار کرنے پر فوری توجہ دینی چاہیئے تا کہ ملک کی آئی ٹی ایکسپورٹس بڑھ سکیں۔ اس کے علاوہ عام کاموں کی تربیت کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز اور نرسز کو بھی عالمی معیار کے مظابق تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ مختلف ملکوں میں روزگار حاصل کر سکیں۔ اس موضوع پر مین پاور ایکسپورٹر سرفراز ظہور بھی ان سے اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مڈل ایسٹ میں نرسز کی بہت ڈیمانڈ ہے اور ڈاکٹرز کی بھی لہذا حکومت کو اس پر خصوصی توجہ دی جانا چاہیے۔