ایران کے خلاف امریکہ، اسرائیل کی جنگ: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
2 مارچ 2026
عالمی امور کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کے لئے ایران کی صورتحال کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہے، دوسری طرف وہ امریکہ اور عرب ممالک سے بھی تعلق برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن یہ آسان کام نہیں ہے۔
ان کے بقول ابھی تک تو پاکستان نے اسرائیل کی مذمت کی ہے لیکن امریکہ کا نام لینے سے گریز کیا ہے۔ایران پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کی ہے اور دوسری طرف ایران نے گلف کے جن ملکوں پر حملے کئے ہیں ان کے ساتھ بھی اظہار ہمدردی کیا ہے۔ ’’چند دن تک تو یہ صورتحال چل سکے گی لیکن اگر اس جنگ نے طول پکڑا تو پاکستان کے لئے کوئی واضح پوزیشن لینا ضروری ہو جائے گا۔ جو کہ اس کے لئے آسان نہیں ہوگا۔‘‘
پاکستان میں بعض حکومتی شخصیات صدر ٹرمپ کے ساتھ حکومت پاکستان کے اچھے تعلقات کا حوالہ دے کر اس جنگ کو بند کرانے کے لئے کسی مصالحتی عمل میں اپنے کردار کا تاثر دیتے ہیں۔
ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار ثقلین امام نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ پاکستان کے پاس ایٹم بم اور مضبوط آرمی ہے لیکن ان کے مطابق پاکستان کی معیشت اتنی مضبوط نہیں ہے کہ وہ خارجہ پالیسی کے فیصلے آزادانہ طور پر کر سکے۔ ’’دیکھیں آئی ایم ایف جو عموماﹰ سیاسی اشاروں پر فیصلے کرتا ہے ، اگر قرضہ دینے سے انکار کردے تو پاکستان ڈیفالٹ کر سکتا ہے۔ ہماری برآمدات کا کافی انحصار بھی مغربی ملکوں پر ہے، ہماری بہت بڑی افرادی قوت سعودی عرب اور گلف اسٹیٹس میں کام کرکے ہمیں زر مبادلہ بھیجتی ہے۔ ایسے میں پاکستان عالمی نظام سے الگ تھلگ رہ کر فیصلے کیسے کر سکتا ہے۔‘‘
ثقلین امام کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت کو امریکی ٹیرف سے جو جھٹکا لگا تھا اس کے نتیجے میں وہ مکمل طور پر ٹرمپ کے آگے سرنڈر کر چکا ہے ۔ ہم اس پر کیسے اپنی مرضی مسلط کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ کی ’آنیاں جانیاں‘ زیادہ اہمیت کی حامل نہیں
پیر کے روز پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار( جو کہ ملک کے وزیر خارجہ بھی ہیں) نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی ملکوں کے ساتھ رابطے میں ہے،حالیہ جنگی صورتحال انتہائی نازک ہے، ان کے بقول ان کی کوشش ہے کہ جنگ کے تمام فریقین عالمی قوانین اور کنونشنز کی پابندی کرتے ہوئے مذاکرات کی جانب بڑھیں۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کی صورتحال کو قریب سے مانیٹر کررہا ہے،ان کے بقول ڈائیلاگ اور سفارتکاری کے زریعے ہی اس مئسلے کا حل ممکن ہے،'' پاکستان سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔‘‘
ثقلین امام نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ کی'' آنیاں جانیاں ‘‘ کوئی زیادہ اہمیت کی حامل نہیں ہیں کیونکہ ان کے بقول یہ لوگ اب ''بھیڑ کو بھییڑئے سے بچانے ‘‘کے لئے کوئی فیصلہ کن طاقت نہیں رکھتے۔
ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے بیرون ملک موجود پاکستان کے ایک سینئر سفارت کار نے بتایا کہ اسرائیل امریکہ کی ایران سے جنگ پر پاکستان نے اصولی موقف اپنایا ہے۔ امریکہ، عرب ملکوں اور ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہیں اس لئے پاکستان مصالحتی کوششوں میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ '' آپ کو پاکستان کے دفتر خارجہ کی صلاحیتوں کو ''انڈر اسٹیمیٹ‘‘ نہیں کرنا چاہئیے کیونکہ پاکستان ماضی میں بھی کئی بار دو متحارب فریقوں کے ساتھ کامیابی سے توازن تعلقات قائم رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
ثقلین امام اس بات کو مانتے ہیں کہ پاکستان ایسا توازن قائم کرنے کا ماہر ہے اور دفتر خارجہ میں ایسے پروفیشنل لوگ موجود ہیں جو اس ضمن میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ لیکن ان کے خیال میں ایک مشکل یہ ہے کہ حکومتی اشرافیہ اپنے آپ کو امریکہ کے ساتھ رکھنے میں آرام دہ محسوس کرتی ہے جبکہ دوسری طرف پاک فوج کے کچھ محب وطن اسٹریٹجک حکام چین کو پاکستان کے آخری دفاع کا ضامن سمجھتے ہیں۔
پاکستان فی الحال ’دیکھو اور انتظار کرو‘ کی پالیسی پر عمل پیرا
یہ بات کئی ماہرین کی جانب سے زور دے کر کہی جا رہی ہے کہ ایران۔اسرائیل جنگ کے معاملے میں پاکستان کا محتاط طرزِ عمل محض سفارتی مجبوری نہیں بلکہ ایک شعوری اسٹریٹجک انتخاب ہے۔ پاکستان بخوبی آگاہ ہے کہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے یا پھیلتی ہے تو اس کے اثرات براہِ راست اور شدید طور پر پاکستان کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس تنازع کے نتیجے میں پاکستان کو تیل کی ممکنہ قلت اور قیمتوں میں نمایاں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے پہلے ہی دباؤ کا شکار معیشت مزید مشکلات میں گھِر جائے گی۔ اسی طرح خلیجی ممالک میں فضائی پابندیوں یا پروازوں میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جو نہ صرف سفری نظام بلکہ ترسیلاتِ زر پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ خلیج میں کام کرنے والے پاکستانی مزدوروں کی ممکنہ چھانٹیاں ایک اور بڑا خطرہ سمجھی جا رہی ہیں، جس کے سماجی اور معاشی نتائج طویل المدت ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک۔ایران سرحد پر سکیورٹی دباؤ اور نقل و حرکت میں اضافے کے امکانات بھی تشویش کا باعث ہیں۔
ایک رائے یہ بھی پائی جاتی ہے کہ پاکستان فی الحال ''دیکھو اور انتظار کرو‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک یہ پوری طرح واضح نہیں ہو سکا کہ یہ جنگ محدود دائرے میں رہے گی یا کسی بڑے علاقائی تصادم کی شکل اختیار کرے گی۔ اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث اسلام آباد کسی فوری یا جذباتی فیصلے کے بجائے حالات کے رخ کو بغور دیکھتے ہوئے محتاط انداز میں قدم بڑھانا چاہتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر