1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

صدر نے دستخط کر دیے، ستائیسویں ترمیم اب پاکستانی آئین کا حصہ

مقبول ملک ، روئٹرز، اے پی، اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 13 نومبر 2025آخری اپ ڈیٹ 13 نومبر 2025

پاکستان کی وفاقی پارلیمان کی طرف سے گزشتہ روز منظور کردہ ستائیسویں آئینی ترمیم صدر آصف علی زرداری کے دستخطوں کے بعد جمعرات 13 نومبر کے روز باقاعدہ طور پر ملکی آئین کا حصہ بن گئی۔

https://p.dw.com/p/53Y9h
آصف علی زرداری، دائیں،  وزیر اعظم شہباز شریف سے ہاتھ ملاتے ہوئے، گزشتہ برس مارچ میں پاکستانی پارلیمان میں لی گئی ایک تصویر
آصف علی زرداری، دائیں، وزیر اعظم شہباز شریف سے ہاتھ ملاتے ہوئے، گزشتہ برس مارچ میں پاکستانی پارلیمان میں لی گئی ایک تصویرتصویر: picture alliance / Xinhua News Agency
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • صدر آصف زرداری کے دستخطوں کے بعد ستائیسویں ترمیم پاکستانی آئین کا حصہ بن گئی
  • امریکہ میں طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن کا خاتمہ، صدر ٹرمپ نے دستخط کر دیے
  • پیرس میں داعش کے خونریز حملوں کو دس سال ہو گئے، یادگاری تقریبات کا انعقاد
  • جرمن چانسلر میرس کا یوکرینی صدر سے کرپشن کے خلاف بھرپور اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ
  • یورپی یونین نے گوگل کے خلاف دانستہ غلط سرچ رینکنگ کے باعث نئی کارروائی کا آغاز کر دیا
  • صدر زیلنسکی کا یوکرینی دستوں سے ملاقات کے لیے زاپوریژیا میں جنوبی جنگی محاذ کا دورہ
  • بنگلہ دیش میں ریاستی اصلاحات کے لیے ’جولائی چارٹر‘ نامی تجاویز پر قومی ریفرنڈم کے انعقاد کا اعلان
  • پاکستان میں رواں ہفتے دونوں خود کش بم حملے افغان شہریوں نے کیے، وزیر داخلہ محسن نقوی
صدر آصف زرداری کے دستخطوں کے بعد ستائیسویں ترمیم پاکستانی آئین کا حصہ بن گئی سیکشن پر جائیں
13 نومبر 2025

صدر آصف زرداری کے دستخطوں کے بعد ستائیسویں ترمیم پاکستانی آئین کا حصہ بن گئی

وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر آصف زرداری پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بائے جانے کے موقع پر
وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر آصف زرداری پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بائے جانے کے موقع پرتصویر: Pakistan's Press Information Department/AFP

پاکستان کی وفاقی پارلیمان کی طرف سے گزشتہ روز منظور کردہ ستائیسویں آئینی ترمیم صدر آصف علی زرداری کے دستخطوں کے بعد جمعرات 13 نومبر کے روز باقاعدہ طور پر ملکی آئین کا حصہ بن گئی۔

پاکستانی آئین میں اس ترمیم کی پہلے سینیٹ نے منظوری دی تھی، جس کے بعد کل بدھ 12 نومبر کے روز وفاقی پارلیمان کے ایوان زیریں کے طور پرقومی اسمبلی نے بھی اس کی منظوری دے دی تھی۔ تاہم مسودے میں چند جزوی ترامیم بھی تجویز کی گئی تھیں، جنہیں اس قانونی بل میں شامل کر کے دوبارہ سینیٹ میں بھیج دیا گیا تھا اور انہیں بھی سینیٹ نے اکثریتی رائے سے لیکن اپوزیشن کے بائیکاٹ کے باوجود منظور کر لیا تھا۔

ستائیسویں آئینی ترمیم کی ضرورت اور تنازعہ

اس پارلیمانی عمل کی تکمیل کے بعد پاکستانی صدر آصف زرداری نے آج اس قانونی بل پر دستخط بھی کر دیے، جس کے بعد قانون سازی کے جملہ پارلیمانی تقاضے پورے ہو جانے کے ساتھ ہی 27 ویں آئینی ترمیم اب آئین پاکستان کا حصہ بن گئی ہے۔

اس تازہ ترین ترمیم کے ملکی آئین کا حصہ بن جانے کی سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نے بھی اپنی نشریات میں تصدیق کر دی۔

اس سلسلے میں ایک سمری پر سربراہ مملکت کے دستخطوں کے بعد صدارتی دفتر کی طرف سے وزیر اعظم شہباز شریف کے نام لکھے گئے ایک سرکاری خط میں لکھا گیا، ’’جیسا کہ سمری کے پیراگراف نمبر پانچ میں وزیر اعظم کی طرف سے تجویز دی گئی ہے، آئین میں 27 ویں ترمیم کے بل 2025ء کی منظوری دے دی گئی ہے۔‘‘

اس ترمیم کے بعد پاکستان میں اب متعدد ریاستی اداروں اور ان کی اعلیٰ ترین شخصیات کے فرائض، ان کے اختیارات اور ان کو حاصل اپنے خلاف قانونی کارروائی سے تحفظ کے حوالے سے کئی طرح کی تبدیلیاں عملاﹰ ممکن ہو گئی ہیں۔

https://p.dw.com/p/53ZtN
امریکہ میں طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن کا خاتمہ، صدر ٹرمپ نے دستخط کر دیے سیکشن پر جائیں
13 نومبر 2025

امریکہ میں طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن کا خاتمہ، صدر ٹرمپ نے دستخط کر دیے

امریکی صدر ٹرمپ وفاقی حکومتی شٹ ڈاؤن کے خاتمے کو ممکن بنانے والے قانونی بل پر دستخطوں کے بعد یہ دستاویز دکھاتے ہوئے
امریکی صدر ٹرمپ وفاقی حکومتی شٹ ڈاؤن کے خاتمے کو ممکن بنانے والے قانونی بل پر دستخطوں کے بعد یہ دستاویز دکھاتے ہوئےتصویر: Jacquelyn Martin/AP Photo/picture alliance

امریکہ میں ایک نئے ریکارڈ عرصے تک جاری رہنے والے اور تاریخ کے طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن کے خاتمے کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بارے میں ایک بل پر دستخط بھی کر دیے ہیں۔

ان دستخطوں کے بعد آج جمعرات 13 نومبر سےامریکہ میں تمام وفاقی حکومتی ادارے معمول کے مطابق لیکن بتدریج دوبارہ فعال ہو رہے ہیں اور وفاقی حکومت کے ملازمین کے لیے زندگی دوبارہ اپنی ڈگر پر لوٹ رہی ہے۔

امریکی وفاقی حکومت فنڈنگ میں تعطل کے باعث 'شٹ ڈاؤن‘

امریکہ میں یہ فیڈرل گورنمنٹ شٹ ڈاؤن 43 روز تک جاری رہا اور اس دوران وفاقی حکومت اور اس کے ملازمین کے لیے ہر قسم کی فنڈنگ منجمد رہی، جس کی وجہ سے لاکھوں ملازمین کو ان کی تنخواہیں بھی دیر سے ملیں یا بالکل نہ مل سکیں۔

امریکہ میں ملکی کانگریس کی عمارت، جو کیپیٹل ہل کہلاتی ہے
امریکہ میں ملکی کانگریس کی عمارت، جو کیپیٹل ہل کہلاتی ہےتصویر: Mark Schiefelbein/AP/dpa/picture alliance

یہ حکومتی شٹ ڈاؤن امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے مابین مالیاتی معاملات پر شدید اختلافات کے نتیجے میں ہوا تھا۔

لیکن کل بدھ کی رات امریکی ایوان نمائندگان نے، جہاں ریپبلکن ارکان کی اکثریت ہے، ووٹنگ کر کے اس پیکج کی منظوری دے دی تھی، جسے امریکی سینیٹ نے پہلے ہی منظور کر لیا تھا۔

امریکا میں اس سال کا دوسرا حکومتی شٹ ڈاؤن، جو ختم بھی ہو گیا

اس کے بعد اس بل پر صدر ٹرمپ کے دستخطوں کے ساتھ دونوں پارٹیوں کے مابین اتفاق رائے کو حتمی دستاویزی شکل اور منظوری بھی مل گئی اور یوں حکومتی شٹ ڈاؤن کا خاتمہ بھی یقینی ہو گیا۔

https://p.dw.com/p/53ZkJ
پیرس میں باٹاکلاں تھیٹر اور دیگر مقامات پر داعش کے خونریز حملوں کو دس سال ہو گئے سیکشن پر جائیں
13 نومبر 2025

پیرس میں باٹاکلاں تھیٹر اور دیگر مقامات پر داعش کے خونریز حملوں کو دس سال ہو گئے

پیرس حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں رکھے جانے والے پھول اور جلائی جانے والے شمعیں
پیرس حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں رکھے جانے والے پھول اور جلائی جانے والے شمعیںتصویر: Thomas Samson/AFP/Getty Images

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں 13 نوبمر 2015ء کو باٹاکلاں تھیٹر اور دیگر مقامات پر دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے عسکریت پسندوں کی طرف سے بیک وقت کیے گئے متعدد خونریز حملوں کو آج جمعرات کے روز ٹھیک دس سال ہو گئے۔

فرانس یورپ میں دہشت گردی کا مرکز کیوں؟

اس موقع پر یورپی یونین کے رکن اور جرمنی کے ہمسایہ اس ملک میں متعدد یادگاری تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پیرس میں اس ہلاکت خیز دہشت گردی کے اگرچہ ٹھیک دس سال پورے ہو گئے ہیں، تاہم اس وجہ سے پیرس شہر کو لگنے والے زخموں کے گہرے اور تکلیف دہ نشانات آج تک باقی ہیں۔

فرانسیسی صدر ماکروں، اپنے دائیں طرف اہلیہ بریجیٹ ماکروں اور بائیں طرف پیرس کی میئر این ہیدالگو کے ہمراہ، مرکزی یادگاری تقریب میں شرکت کے لیے آتے ہوئے
فرانسیسی صدر ماکروں، اپنے دائیں طرف اہلیہ بریجیٹ ماکروں اور بائیں طرف پیرس کی میئر این ہیدالگو کے ہمراہ، مرکزی یادگاری تقریب میں شرکت کے لیے آتے ہوئےتصویر: Ludovic Marin/AFP/Getty Images

تیرہ نومبر 2015ء کے روز پیرس میں کیے گئے ان مربوط حملوں میں ایک تھیٹراور ایک اسٹیڈیم سمیت متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر 132 افراد ہلاک اور سینکڑوں دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

https://p.dw.com/p/53ZFo
جرمن چانسلر میرس کا یوکرینی صدر سے کرپشن کے خلاف بھرپور اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ سیکشن پر جائیں
13 نومبر 2025

جرمن چانسلر میرس کا یوکرینی صدر سے کرپشن کے خلاف بھرپور اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ

جرمن چانسلر میرس، دائیں، اور یوکرینی صدر زیلنسکی، اگست میں برلن میں لی گئی ایک تصویر
جرمن چانسلر میرس، دائیں، اور یوکرینی صدر زیلنسکی، اگست میں برلن میں لی گئی ایک تصویرتصویر: Ralf Hirschberger/AFP

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اپنے ملک میں کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف فوری طور پر زیادہ مؤثر اور بھرپور اقدامات کرنا چاہییں۔

روس میزائل تجربات کے بجائے یوکرین میں جاری جنگ ختم کرے، ٹرمپ

برلن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق چانسلر میرس نے جمعرات 13 نومبر کے روز یوکرینی صدر زیلنسکی کو بتایا کہ جرمنی توقع کرتا ہے کہ کییف حکومت جنگ زدہ یوکرین میں کرپشن کے خاتمے کے لیے بہت نتیجہ خیز اور دور رس اقدامات کرے گی۔

جرمن چانسلر نے یہ مطالبہ ایک ایسے وقت پر کیا ہے جب کییف کو ملکی حکومت کی سطح پر بڑی کرپشن کے ایک نئے اسکینڈل کا سامنا ہے۔

یوکرینی وزیر انصاف گالوشینکو جنہیں مستعفی ہونا پڑ گیا
یوکرینی وزیر انصاف گالوشینکو جنہیں مستعفی ہونا پڑ گیاتصویر: Danil/Avalon/Photoshot/picture alliance

برلن میں چانسلر میرس کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق فریڈرش میرس نے صدر زیلنسکی سے فون پر بات کرتے ہوئے جمعرات کے روز کہا، ’’یوکرینی حکومت کو پوری توانائی کے ساتھ اینٹی کرپشن اقدامات کو آگے بڑھاتے ہوئے ملک میں جامع اصلاحات لانا چاہییں، خاص طور پر قانون کی حکمرانی اور بالا دستی کے شعبے میں۔‘‘

روس کے خلاف جنگ میں یوکرین امریکی ٹوما ہاک میزائل کیوں چاہتا ہے؟

یوکرینی صدر زیلنسکی نے ابھی کل بدھ کے روز ہی توانائی اور انصاف کے ملکی وزراء کو انرجی سیکٹر میں منی لانڈرنگ کے ایک نئے لیکن بہت بڑے اسکینڈل کی وجہ سے برطرف کر دیا تھا۔

یوکرینی وزیر توانائی سویتلانا ہرنچوک جن سے صدر زیلنسکی نے استعفیٰ طلب کر لیا
یوکرینی وزیر توانائی سویتلانا ہرنچوک جن سے صدر زیلنسکی نے استعفیٰ طلب کر لیاتصویر: Murad Sezer/REUTERS

روس کے ساتھ قریب چار سال سے جاری جنگ میں یوکرین کے توانائی کے شعبے کو خاص طور پر بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

https://p.dw.com/p/53Z8q
یورپی یونین نے گوگل کے خلاف دانستہ غلط سرچ رینکنگ کے باعث نئی کارروائی کا آغاز کر دیا سیکشن پر جائیں
13 نومبر 2025

یورپی یونین نے گوگل کے خلاف دانستہ غلط سرچ رینکنگ کے باعث نئی کارروائی کا آغاز کر دیا

ایک اسمارٹ فون کی سکرین پر گوگل سرچ انجن کی تصویر
ایک اسمارٹ فون کی سکرین پر گوگل سرچ انجن کی تصویرتصویر: Andrew Matthews/empics/picture alliance

یورپی یونین نے امریکی انٹرنیٹ کمپنی اور دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کے خلاف انٹرنیٹ سرچ کے دوران نیوز ویب سائٹس کی دانستہ غلط رینکنگ سے متعلق قوی شبہات کے باعث ایک نئی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

کیا یورپ کا نیا سرچ انجن گوگل کا مقابلہ کر سکے گا؟

ستائیس رکنی یورپی یونین کو شبہ ہے کہ گوگل کی طرف سے انٹرنیٹ سرچ کے دوران بہت سی نیوز ویب سائٹس، میڈیا اور پبلشنگ اداروں کی ویب سائٹس کی سرچ رزلٹس میں اس طرح دانستہ غلط رینکنگ کی جاتی ہے کہ یوں یورپی یونین کے مروجہ ضابطوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

اسی لیے برسلز میں اس بلاک کے صحت مند کاروباری مقابلہ بازی کو یقینی بنانے والے کمیشن کی طرف سے جمعرات 13 نومبر کے روز بتایا گیا کہ گوگل کے خلاف ایک نئی چھان بین شروع کر دی گئی ہے۔

کروم کے بغیر گوگل کی قدر و قیمت کیا ہو گی؟

گوگل سرچ اور مصنوعی ذہانت، ایک علامتی تصویر
گوگل سرچ انجن کو ماضی میں بھی یورپی یونین کی طرف سے اربوں یورو کا جرمانہ کیا جا چکا ہےتصویر: Taidgh Barron/ZUMAPRESS.com/picture alliance

پاکستانی انٹرنیٹ صارفین اس سال گوگل پر کیا تلاش کرتے رہے؟

یورپی ریگولیٹرز کا موقف ہے کہ ایسا کرتے ہوئے گوگل خاص نوعیت کے مندرجات کو ناجائز حد تک پیچھے دھکیل دیتا یا demote کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس گوگل کا عمومی موقف یہ ہے کہ وہ ایسا کرتے ہوئے دراصل غلط اور دھوکہ دہی کے لیے استعمال ہونے والی ویب سائٹس یا scammers کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتا ہے۔

گوگل کو چار ارب یورو سے زائد جرمانہ: عدالت نے توثیق کر دی

اس چھان بین کے نتیجے میں گوگل کے ممکنہ طور پر قصور وار پائے جانے پر اس امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کو ایک بار پھر یورپی یونین کی طرف سے اربوں یورو کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

آپ کی چیٹ جی پی ٹی سے گفتگو گوگل پر کیسے؟

https://p.dw.com/p/53Ygp
صدر زیلنسکی کا یوکرینی دستوں سے ملاقات کے لیے جنوبی جنگی محاذ کا دورہ سیکشن پر جائیں
13 نومبر 2025

صدر زیلنسکی کا یوکرینی دستوں سے ملاقات کے لیے جنوبی جنگی محاذ کا دورہ

روسی یوکرینی جنگ میں یوکرینی شہر خارکیف میں ایک روسی ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ اور وہاں ہونے والی تباہی
روسی یوکرینی جنگ میں یوکرینی شہر خارکیف میں ایک روسی ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ اور وہاں ہونے والی تباہیتصویر: Sofiia Gatilova/REUTERS

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے جمعرات 13 نومبر کے روز ملک کے جنوب مشرقی خطے زاپوریژیا میں روس کے خلاف جنگ میں جنوبی محاذ پر فرائض انجام دینے والے ملکی فوجیوں سے ملاقات کے لیے اس علاقے کا ایک دورہ کیا۔

روس میزائل تجربات کے بجائے یوکرین میں جاری جنگ ختم کرے، ٹرمپ

اس دورے کے تناظر میں صدر زیلنسکی نے بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر ایک ایسی چھوٹی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں انہیں اس جنگی محاذ پر ایک بنکر میں یوکرینی فوجیوں سے ملاقات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

یوکرینی صدر زیلنسکی ملکی فوجیوں سے ملاقات کرتے ہوئے
یوکرینی صدر زیلنسکی ملکی فوجیوں سے ملاقات کرتے ہوئےتصویر: Office of the president of Ukraine

اس پوسٹ کے ساتھ صدر زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے اس دورے کے دوران ملکی فوجیوں سے اس بارے میں تبادلہ خیال بھی کیا کہ ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے خاص طور پر عملے اور ساز و سامان کے حوالے سے کس طرح کے فیصلوں کی ضرورت ہے۔

روس کا نيا اور ’منفرد‘ جنگی ہتھيار کيا ہے؟

یوکرینی فوج نے اسی ہفتے کہا تھا کہ روس کے خلاف جنگ میں زاپوریژیا کے محاذ پر صورت حال کییف کے مسلح دستوں کے لیے حالیہ دنوں میں اس لیے مزید خراب ہوئی ہے کہ وہاں روس کے مسلح دستے اپنی جنگی کارروائیاں اور عسکری پیش قدمی کی کوششیں تیز تر کر چکے ہیں۔

روسی جارحیت کا مقابلہ کرتی دو یوکرینی فوجی بہنوں کی کہانی

https://p.dw.com/p/53YM8
بنگلہ دیش میں ریاستی اصلاحات کے لیے ’جولائی چارٹر‘ نامی تجاویز پر قومی ریفرنڈم کے انعقاد کا اعلان سیکشن پر جائیں
13 نومبر 2025

بنگلہ دیش میں ریاستی اصلاحات کے لیے ’جولائی چارٹر‘ نامی تجاویز پر قومی ریفرنڈم کے انعقاد کا اعلان

گزشتہ برس موسم گرما میں لی گئی ایک تصویر: شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف طلبہ کی قیادت میں چلائی گئی احتجاجی تحریک کے دوران ڈھاکہ میں شیخ حسینہ واجد کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دینے والے سینکڑوں مظاہرین
گزشتہ برس موسم گرما میں لی گئی ایک تصویر: شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف طلبہ کی قیادت میں چلائی گئی احتجاجی تحریک کے دوران ڈھاکہ میں شیخ حسینہ واجد کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دینے والے سینکڑوں مظاہرینتصویر: K M Asad/AFP

بنگلہ دیش کے عبوری حکومتی سربراہ محمد یونس نے ریاستی اصلاحات کے لیے ’جولائی چارٹر‘ نامی ان تجاویز پر ایک قومی ریفرنڈم کے انعقاد کا اعلان کیا ہے، جو طلبہ کی قیادت میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے بعد تیار کی گئی تھیں۔

'عوامی لیگ پر پابندی لگانا، 17 کروڑ آبادی والے ملک کو مزید تقسیم کرنے کا سبب بنے گا‘

بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ سے جمعرات 13 نومبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ملک میں گزشتہ برس شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف طلبہ کی قیادت میں چلائی جانے والی کامیاب احتجاجی تحریک کے نتیجے میں اقتدار میں آنے والی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے آج کہا کہ ان کی حکومت ملک میں آئندہ ایک قومی ریفرنڈم کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

پاکستان کی بنگلہ دیش کو کراچی بندرگاہ استعمال کرنے کی پیش کش

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ اور نوبل انعام یافتہ شخصیت محمد یونس
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ اور نوبل انعام یافتہ شخصیت محمد یونستصویر: Bangladesh CA Press wing

’جولائی چارٹر‘ کیا ہے؟

یہ ریفرنڈم ان تجاویز پر عمل درآمد سے متعلق ہو گا، جنہیں عرف عام میں ’جولائی چارٹر‘ کہا جاتا ہے اور جو ریاستی اصلاحات سے متعلق ہیں۔ یہ تجاویز اس لیے ’جولائی چارٹر‘ کہلاتی ہیں کہ یہ گزشتہ برس شیخ حسینہ کی قیادت میں عوامی لیگ نامی پارٹی کے دور اقتدار کے خاتمے کے بعد تیار کی گئی تھیں۔

یونس کا پاکستانی جنرل کے لیے متنازع نقشے کے ساتھ کتاب کا تحفہ

ان ریاستی اصلاحاتی تجاویز کے بارے میں قومی ریفرنڈم کے انعقاد کے اعلان کے ساتھ ہی نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات محمد یونس نے یہ بات بھی زور دے کر کہی کہ ملک میں حسینہ دور کے بعد کے پہلے قومی پارلیمانی الیکشن اگلے برس فروری کے پہلے نصف حصے میں ہی کرائے جائیں گے، جو ہر حال میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہوں گے۔

بنگلہ دیش: یونس انتظامیہ کے تحت ہونے والے انتخابات سے قبل درپیش چیلنجز

(اب سابق) وزیر اعظم شیخ حسینہ کی ان کے دفتر میں لی گئی ایک تصویر: شیخ حسینہ عوامی مظاہروں کے دوران ملک سے فرار ہو کر بھارت میں پناہ گزین ہو گئی تھیں
(اب سابق) وزیر اعظم شیخ حسینہ کی ان کے دفتر میں لی گئی ایک تصویر: شیخ حسینہ عوامی مظاہروں کے دوران ملک سے فرار ہو کر بھارت میں پناہ گزین ہو گئی تھیںتصویر: PID Bangladesh

آئینی اصلاحات کے چارٹر کی منظوری

ڈھاکہ میں ملک کی عبوری حکومت نے جمعرات ہی کے روز ’جولائی نیشنل چارٹر‘ کی منظوری بھی دے دی، جس کے تحت بنیادی طور پر ملکی آئین میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین بڑھتی ہوئی قربت کے جنوبی ایشیا پر اثرات

عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کے مطابق جولائی نیشنل چارٹر کے عمل درآمدی حکم نامے 2025 کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس حکومتی منظوری کے بعد ان مجوزہ اصلاحات پر عمل درآمد اس موضوع پر قومی ریفرنڈم کے نتائج کی روشنی میں کیا جائے گا۔

ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب میں عبوری حکومتی سربراہ محمد یونس نے مزید کہا، ’’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آئینی اصلاحات سے متعلق جولائی چارٹر پر عمل درآمد سے پہلے ایک نیشنل ریفرنڈم بھی آئندہ قومی انتخابات کے روز ہی 2026ء میں فروری کے پہلے نصف حصے میں ہی منعقد کرایا جائے گا۔‘‘

شیخ حسینہ، ایک سورج جو ڈوب گیا

https://p.dw.com/p/53YHg
پاکستان میں رواں ہفتے دونوں خود کش بم حملے افغان شہریوں نے کیے، وزیر داخلہ محسن نقوی سیکشن پر جائیں
13 نومبر 2025

پاکستان میں رواں ہفتے دونوں خود کش بم حملے افغان شہریوں نے کیے، وزیر داخلہ محسن نقوی

اسلام آباد میں ضلعی عدالت کے سامنے خود کش بم دھماکے کے بعد کا منظر اور وہاں جمع وکلاء اور عام لوگوں کا ہجوم
اسلام آباد میں ضلعی عدالت کے سامنے خود کش بم دھماکے کے بعد کا منظر اور وہاں جمع وکلاء اور عام لوگوں کا ہجومتصویر: Muhammed Semih Ugurlu/Anadolu Agency/IMAGO

پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ رواں ہفتے دارالحکومت اسلام آباد اور وانا میں ہونے والے دونوں خود کش بم حملے افغان شہریوں نے کیے۔ محسن نقوی نے یہ بات پاکستانی پارلیمان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے جمعرات 13 نومبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے قومی اسمبلی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آج کہا کہ ان دونوں دہشت گردانہ اور ہلاکت خیز حملوں کے مرتکب حملہ آور افغان شہری تھے۔

پاک افغان امن مذاکرات: ترک وزارتی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا

وفاقی وزیر داخلہ نے یہ بات پارلیمان سے اپنے جس خطاب کے دوران کہی، وہ سرکاری ٹیلی وژن پر لائیو بھی دکھایا جا رہا تھا۔ محسن نقوی کے بقول ان دونوں خود کش حملوں کے مرتکب حملہ آوروں کی شناخت افغانستان کے شہریوں کے طور پر ہوئی ہے۔

اسلام آباد میں ضلعی عدالت والی اور جوڈیشل کمپلیکس کہلانے والی عمارت کی ایک تصویر
اسلام آباد میں ضلعی عدالت والی اور جوڈیشل کمپلیکس کہلانے والی عمارت کی ایک تصویرتصویر: Akhtar Soomro/REUTERS

وزیر داخلہ کے اس بیان پرکابل میں افغان طالبان کی حکومت کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ضلعی عدالت کے باہر اور پولیس کی ایک گشتی ٹیم کے قریب ہی منگل کے روز بارود سے لدی ایک گاڑی کے ساتھ کیے گئے خود کش حملے میں 12 افراد ہلاک اور 27 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

ڈیورنڈ لائن: پاک افغان تعلقات میں تناؤ سے عبارت مشترکہ سرحد

اسی طرح افغانستان کے ساتھ سرحد سے ملنے والے پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں وانا کے مقام پر ایک کیڈٹ کالج کے مرکزی دروازے پر دھماکہ خیز مواد سے لدی ایک گاڑی کی مدد سے کیے جانے والے خود کش بم حملے میں بھی کم ازکم تین افراد مارے گئے تھے۔

بارہ افراد کی ہلاکت اور 27 دیگر کے زخمی ہو جانے کی وجہ بننے والے اس بم حملے کے فوراﹰ بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی (بائیں سے پانچویں) بھی موقع پر پہنچ گئے تھے
بارہ افراد کی ہلاکت اور 27 دیگر کے زخمی ہو جانے کی وجہ بننے والے اس بم حملے کے فوراﹰ بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی (بائیں سے پانچویں) بھی موقع پر پہنچ گئے تھےتصویر: Farooq Naeem/AFP/Getty Images

وانا ملٹری اسکول پر یہ دہشت گردانہ حملہ پیر کے روز کیا گیا تھا۔ اس حملے کے دوران مسلح حملہ آور اس کیڈٹ کالج میں داخل ہو کر وہاں مورچہ بند بھی ہو گئے تھے۔ سکیورٹی دستوں نے ان کا محاصرہ کر لیا تھا اور مجموعی طور پر ان کی سکیورٹی دستوں کے ساتھ جھڑپیں 24 گھنٹے سے بھی زیادہ دیر تک جاری رہی تھیں۔ آخرکار یہ تینوں عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

پاکستان: ٹی ٹی پی کا حملہ، لیفٹیننٹ کرنل، میجر سمیت 11 فوجی اہلکار ہلاک

پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات حالیہ کئی ہفتوں سے انتہائی کشیدہ ہیں اور ان کے مابین گزشتہ ماہ ہونے والی سرحدی جھڑپوں میں دونوں طرف سے درجنوں فوجی اور عام شہری مارے گئے تھے۔

افغانستان سے سرگرم دہشت گرد گروہ سب سے بڑا خطرہ، پاکستان

اس کشیدگی کے خاتمے اور ایک دیرپا امن معاہدے پر اتفاق رائے کے لیے اسلام آباد اور کابل کے مابین  قطر اور ترکی میں انہی دونوں ممالک کی ثالثی میں امن مذاکرات کے تین دور بھی ہو چکے ہیں، لیکن وہ بے نتیجہ ہی رہے تھے۔

ادارت: رابعہ بگٹی، عدنان اسحاق

پاکستان کا افغان طالبان پردہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام

https://p.dw.com/p/53YEi
مزید پوسٹیں
Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔