صدر نے دستخط کر دیے، ستائیسویں ترمیم اب پاکستانی آئین کا حصہ
وقت اشاعت 13 نومبر 2025آخری اپ ڈیٹ 13 نومبر 2025
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- صدر آصف زرداری کے دستخطوں کے بعد ستائیسویں ترمیم پاکستانی آئین کا حصہ بن گئی
- امریکہ میں طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن کا خاتمہ، صدر ٹرمپ نے دستخط کر دیے
- پیرس میں داعش کے خونریز حملوں کو دس سال ہو گئے، یادگاری تقریبات کا انعقاد
- جرمن چانسلر میرس کا یوکرینی صدر سے کرپشن کے خلاف بھرپور اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ
- یورپی یونین نے گوگل کے خلاف دانستہ غلط سرچ رینکنگ کے باعث نئی کارروائی کا آغاز کر دیا
- صدر زیلنسکی کا یوکرینی دستوں سے ملاقات کے لیے زاپوریژیا میں جنوبی جنگی محاذ کا دورہ
- بنگلہ دیش میں ریاستی اصلاحات کے لیے ’جولائی چارٹر‘ نامی تجاویز پر قومی ریفرنڈم کے انعقاد کا اعلان
- پاکستان میں رواں ہفتے دونوں خود کش بم حملے افغان شہریوں نے کیے، وزیر داخلہ محسن نقوی
صدر آصف زرداری کے دستخطوں کے بعد ستائیسویں ترمیم پاکستانی آئین کا حصہ بن گئی
پاکستان کی وفاقی پارلیمان کی طرف سے گزشتہ روز منظور کردہ ستائیسویں آئینی ترمیم صدر آصف علی زرداری کے دستخطوں کے بعد جمعرات 13 نومبر کے روز باقاعدہ طور پر ملکی آئین کا حصہ بن گئی۔
پاکستانی آئین میں اس ترمیم کی پہلے سینیٹ نے منظوری دی تھی، جس کے بعد کل بدھ 12 نومبر کے روز وفاقی پارلیمان کے ایوان زیریں کے طور پرقومی اسمبلی نے بھی اس کی منظوری دے دی تھی۔ تاہم مسودے میں چند جزوی ترامیم بھی تجویز کی گئی تھیں، جنہیں اس قانونی بل میں شامل کر کے دوبارہ سینیٹ میں بھیج دیا گیا تھا اور انہیں بھی سینیٹ نے اکثریتی رائے سے لیکن اپوزیشن کے بائیکاٹ کے باوجود منظور کر لیا تھا۔
ستائیسویں آئینی ترمیم کی ضرورت اور تنازعہ
اس پارلیمانی عمل کی تکمیل کے بعد پاکستانی صدر آصف زرداری نے آج اس قانونی بل پر دستخط بھی کر دیے، جس کے بعد قانون سازی کے جملہ پارلیمانی تقاضے پورے ہو جانے کے ساتھ ہی 27 ویں آئینی ترمیم اب آئین پاکستان کا حصہ بن گئی ہے۔
اس تازہ ترین ترمیم کے ملکی آئین کا حصہ بن جانے کی سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نے بھی اپنی نشریات میں تصدیق کر دی۔
اس سلسلے میں ایک سمری پر سربراہ مملکت کے دستخطوں کے بعد صدارتی دفتر کی طرف سے وزیر اعظم شہباز شریف کے نام لکھے گئے ایک سرکاری خط میں لکھا گیا، ’’جیسا کہ سمری کے پیراگراف نمبر پانچ میں وزیر اعظم کی طرف سے تجویز دی گئی ہے، آئین میں 27 ویں ترمیم کے بل 2025ء کی منظوری دے دی گئی ہے۔‘‘
اس ترمیم کے بعد پاکستان میں اب متعدد ریاستی اداروں اور ان کی اعلیٰ ترین شخصیات کے فرائض، ان کے اختیارات اور ان کو حاصل اپنے خلاف قانونی کارروائی سے تحفظ کے حوالے سے کئی طرح کی تبدیلیاں عملاﹰ ممکن ہو گئی ہیں۔
امریکہ میں طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن کا خاتمہ، صدر ٹرمپ نے دستخط کر دیے
امریکہ میں ایک نئے ریکارڈ عرصے تک جاری رہنے والے اور تاریخ کے طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن کے خاتمے کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بارے میں ایک بل پر دستخط بھی کر دیے ہیں۔
ان دستخطوں کے بعد آج جمعرات 13 نومبر سےامریکہ میں تمام وفاقی حکومتی ادارے معمول کے مطابق لیکن بتدریج دوبارہ فعال ہو رہے ہیں اور وفاقی حکومت کے ملازمین کے لیے زندگی دوبارہ اپنی ڈگر پر لوٹ رہی ہے۔
امریکی وفاقی حکومت فنڈنگ میں تعطل کے باعث 'شٹ ڈاؤن‘
امریکہ میں یہ فیڈرل گورنمنٹ شٹ ڈاؤن 43 روز تک جاری رہا اور اس دوران وفاقی حکومت اور اس کے ملازمین کے لیے ہر قسم کی فنڈنگ منجمد رہی، جس کی وجہ سے لاکھوں ملازمین کو ان کی تنخواہیں بھی دیر سے ملیں یا بالکل نہ مل سکیں۔
یہ حکومتی شٹ ڈاؤن امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے مابین مالیاتی معاملات پر شدید اختلافات کے نتیجے میں ہوا تھا۔
لیکن کل بدھ کی رات امریکی ایوان نمائندگان نے، جہاں ریپبلکن ارکان کی اکثریت ہے، ووٹنگ کر کے اس پیکج کی منظوری دے دی تھی، جسے امریکی سینیٹ نے پہلے ہی منظور کر لیا تھا۔
امریکا میں اس سال کا دوسرا حکومتی شٹ ڈاؤن، جو ختم بھی ہو گیا
اس کے بعد اس بل پر صدر ٹرمپ کے دستخطوں کے ساتھ دونوں پارٹیوں کے مابین اتفاق رائے کو حتمی دستاویزی شکل اور منظوری بھی مل گئی اور یوں حکومتی شٹ ڈاؤن کا خاتمہ بھی یقینی ہو گیا۔
پیرس میں باٹاکلاں تھیٹر اور دیگر مقامات پر داعش کے خونریز حملوں کو دس سال ہو گئے
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں 13 نوبمر 2015ء کو باٹاکلاں تھیٹر اور دیگر مقامات پر دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے عسکریت پسندوں کی طرف سے بیک وقت کیے گئے متعدد خونریز حملوں کو آج جمعرات کے روز ٹھیک دس سال ہو گئے۔
فرانس یورپ میں دہشت گردی کا مرکز کیوں؟
اس موقع پر یورپی یونین کے رکن اور جرمنی کے ہمسایہ اس ملک میں متعدد یادگاری تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پیرس میں اس ہلاکت خیز دہشت گردی کے اگرچہ ٹھیک دس سال پورے ہو گئے ہیں، تاہم اس وجہ سے پیرس شہر کو لگنے والے زخموں کے گہرے اور تکلیف دہ نشانات آج تک باقی ہیں۔
تیرہ نومبر 2015ء کے روز پیرس میں کیے گئے ان مربوط حملوں میں ایک تھیٹراور ایک اسٹیڈیم سمیت متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر 132 افراد ہلاک اور سینکڑوں دیگر زخمی ہو گئے تھے۔
جرمن چانسلر میرس کا یوکرینی صدر سے کرپشن کے خلاف بھرپور اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ
جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اپنے ملک میں کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف فوری طور پر زیادہ مؤثر اور بھرپور اقدامات کرنا چاہییں۔
روس میزائل تجربات کے بجائے یوکرین میں جاری جنگ ختم کرے، ٹرمپ
برلن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق چانسلر میرس نے جمعرات 13 نومبر کے روز یوکرینی صدر زیلنسکی کو بتایا کہ جرمنی توقع کرتا ہے کہ کییف حکومت جنگ زدہ یوکرین میں کرپشن کے خاتمے کے لیے بہت نتیجہ خیز اور دور رس اقدامات کرے گی۔
جرمن چانسلر نے یہ مطالبہ ایک ایسے وقت پر کیا ہے جب کییف کو ملکی حکومت کی سطح پر بڑی کرپشن کے ایک نئے اسکینڈل کا سامنا ہے۔
برلن میں چانسلر میرس کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق فریڈرش میرس نے صدر زیلنسکی سے فون پر بات کرتے ہوئے جمعرات کے روز کہا، ’’یوکرینی حکومت کو پوری توانائی کے ساتھ اینٹی کرپشن اقدامات کو آگے بڑھاتے ہوئے ملک میں جامع اصلاحات لانا چاہییں، خاص طور پر قانون کی حکمرانی اور بالا دستی کے شعبے میں۔‘‘
روس کے خلاف جنگ میں یوکرین امریکی ٹوما ہاک میزائل کیوں چاہتا ہے؟
یوکرینی صدر زیلنسکی نے ابھی کل بدھ کے روز ہی توانائی اور انصاف کے ملکی وزراء کو انرجی سیکٹر میں منی لانڈرنگ کے ایک نئے لیکن بہت بڑے اسکینڈل کی وجہ سے برطرف کر دیا تھا۔
روس کے ساتھ قریب چار سال سے جاری جنگ میں یوکرین کے توانائی کے شعبے کو خاص طور پر بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
یورپی یونین نے گوگل کے خلاف دانستہ غلط سرچ رینکنگ کے باعث نئی کارروائی کا آغاز کر دیا
یورپی یونین نے امریکی انٹرنیٹ کمپنی اور دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کے خلاف انٹرنیٹ سرچ کے دوران نیوز ویب سائٹس کی دانستہ غلط رینکنگ سے متعلق قوی شبہات کے باعث ایک نئی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
کیا یورپ کا نیا سرچ انجن گوگل کا مقابلہ کر سکے گا؟
ستائیس رکنی یورپی یونین کو شبہ ہے کہ گوگل کی طرف سے انٹرنیٹ سرچ کے دوران بہت سی نیوز ویب سائٹس، میڈیا اور پبلشنگ اداروں کی ویب سائٹس کی سرچ رزلٹس میں اس طرح دانستہ غلط رینکنگ کی جاتی ہے کہ یوں یورپی یونین کے مروجہ ضابطوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
اسی لیے برسلز میں اس بلاک کے صحت مند کاروباری مقابلہ بازی کو یقینی بنانے والے کمیشن کی طرف سے جمعرات 13 نومبر کے روز بتایا گیا کہ گوگل کے خلاف ایک نئی چھان بین شروع کر دی گئی ہے۔
کروم کے بغیر گوگل کی قدر و قیمت کیا ہو گی؟
پاکستانی انٹرنیٹ صارفین اس سال گوگل پر کیا تلاش کرتے رہے؟
یورپی ریگولیٹرز کا موقف ہے کہ ایسا کرتے ہوئے گوگل خاص نوعیت کے مندرجات کو ناجائز حد تک پیچھے دھکیل دیتا یا demote کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس گوگل کا عمومی موقف یہ ہے کہ وہ ایسا کرتے ہوئے دراصل غلط اور دھوکہ دہی کے لیے استعمال ہونے والی ویب سائٹس یا scammers کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتا ہے۔
گوگل کو چار ارب یورو سے زائد جرمانہ: عدالت نے توثیق کر دی
اس چھان بین کے نتیجے میں گوگل کے ممکنہ طور پر قصور وار پائے جانے پر اس امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کو ایک بار پھر یورپی یونین کی طرف سے اربوں یورو کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔
صدر زیلنسکی کا یوکرینی دستوں سے ملاقات کے لیے جنوبی جنگی محاذ کا دورہ
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے جمعرات 13 نومبر کے روز ملک کے جنوب مشرقی خطے زاپوریژیا میں روس کے خلاف جنگ میں جنوبی محاذ پر فرائض انجام دینے والے ملکی فوجیوں سے ملاقات کے لیے اس علاقے کا ایک دورہ کیا۔
روس میزائل تجربات کے بجائے یوکرین میں جاری جنگ ختم کرے، ٹرمپ
اس دورے کے تناظر میں صدر زیلنسکی نے بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر ایک ایسی چھوٹی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں انہیں اس جنگی محاذ پر ایک بنکر میں یوکرینی فوجیوں سے ملاقات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس پوسٹ کے ساتھ صدر زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے اس دورے کے دوران ملکی فوجیوں سے اس بارے میں تبادلہ خیال بھی کیا کہ ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے خاص طور پر عملے اور ساز و سامان کے حوالے سے کس طرح کے فیصلوں کی ضرورت ہے۔
روس کا نيا اور ’منفرد‘ جنگی ہتھيار کيا ہے؟
یوکرینی فوج نے اسی ہفتے کہا تھا کہ روس کے خلاف جنگ میں زاپوریژیا کے محاذ پر صورت حال کییف کے مسلح دستوں کے لیے حالیہ دنوں میں اس لیے مزید خراب ہوئی ہے کہ وہاں روس کے مسلح دستے اپنی جنگی کارروائیاں اور عسکری پیش قدمی کی کوششیں تیز تر کر چکے ہیں۔
بنگلہ دیش میں ریاستی اصلاحات کے لیے ’جولائی چارٹر‘ نامی تجاویز پر قومی ریفرنڈم کے انعقاد کا اعلان
بنگلہ دیش کے عبوری حکومتی سربراہ محمد یونس نے ریاستی اصلاحات کے لیے ’جولائی چارٹر‘ نامی ان تجاویز پر ایک قومی ریفرنڈم کے انعقاد کا اعلان کیا ہے، جو طلبہ کی قیادت میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے بعد تیار کی گئی تھیں۔
'عوامی لیگ پر پابندی لگانا، 17 کروڑ آبادی والے ملک کو مزید تقسیم کرنے کا سبب بنے گا‘
بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ سے جمعرات 13 نومبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ملک میں گزشتہ برس شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف طلبہ کی قیادت میں چلائی جانے والی کامیاب احتجاجی تحریک کے نتیجے میں اقتدار میں آنے والی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے آج کہا کہ ان کی حکومت ملک میں آئندہ ایک قومی ریفرنڈم کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
پاکستان کی بنگلہ دیش کو کراچی بندرگاہ استعمال کرنے کی پیش کش
’جولائی چارٹر‘ کیا ہے؟
یہ ریفرنڈم ان تجاویز پر عمل درآمد سے متعلق ہو گا، جنہیں عرف عام میں ’جولائی چارٹر‘ کہا جاتا ہے اور جو ریاستی اصلاحات سے متعلق ہیں۔ یہ تجاویز اس لیے ’جولائی چارٹر‘ کہلاتی ہیں کہ یہ گزشتہ برس شیخ حسینہ کی قیادت میں عوامی لیگ نامی پارٹی کے دور اقتدار کے خاتمے کے بعد تیار کی گئی تھیں۔
یونس کا پاکستانی جنرل کے لیے متنازع نقشے کے ساتھ کتاب کا تحفہ
ان ریاستی اصلاحاتی تجاویز کے بارے میں قومی ریفرنڈم کے انعقاد کے اعلان کے ساتھ ہی نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات محمد یونس نے یہ بات بھی زور دے کر کہی کہ ملک میں حسینہ دور کے بعد کے پہلے قومی پارلیمانی الیکشن اگلے برس فروری کے پہلے نصف حصے میں ہی کرائے جائیں گے، جو ہر حال میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہوں گے۔
بنگلہ دیش: یونس انتظامیہ کے تحت ہونے والے انتخابات سے قبل درپیش چیلنجز
آئینی اصلاحات کے چارٹر کی منظوری
ڈھاکہ میں ملک کی عبوری حکومت نے جمعرات ہی کے روز ’جولائی نیشنل چارٹر‘ کی منظوری بھی دے دی، جس کے تحت بنیادی طور پر ملکی آئین میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین بڑھتی ہوئی قربت کے جنوبی ایشیا پر اثرات
عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کے مطابق جولائی نیشنل چارٹر کے عمل درآمدی حکم نامے 2025 کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس حکومتی منظوری کے بعد ان مجوزہ اصلاحات پر عمل درآمد اس موضوع پر قومی ریفرنڈم کے نتائج کی روشنی میں کیا جائے گا۔
ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب میں عبوری حکومتی سربراہ محمد یونس نے مزید کہا، ’’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آئینی اصلاحات سے متعلق جولائی چارٹر پر عمل درآمد سے پہلے ایک نیشنل ریفرنڈم بھی آئندہ قومی انتخابات کے روز ہی 2026ء میں فروری کے پہلے نصف حصے میں ہی منعقد کرایا جائے گا۔‘‘
پاکستان میں رواں ہفتے دونوں خود کش بم حملے افغان شہریوں نے کیے، وزیر داخلہ محسن نقوی
پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ رواں ہفتے دارالحکومت اسلام آباد اور وانا میں ہونے والے دونوں خود کش بم حملے افغان شہریوں نے کیے۔ محسن نقوی نے یہ بات پاکستانی پارلیمان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے جمعرات 13 نومبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے قومی اسمبلی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آج کہا کہ ان دونوں دہشت گردانہ اور ہلاکت خیز حملوں کے مرتکب حملہ آور افغان شہری تھے۔
پاک افغان امن مذاکرات: ترک وزارتی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا
وفاقی وزیر داخلہ نے یہ بات پارلیمان سے اپنے جس خطاب کے دوران کہی، وہ سرکاری ٹیلی وژن پر لائیو بھی دکھایا جا رہا تھا۔ محسن نقوی کے بقول ان دونوں خود کش حملوں کے مرتکب حملہ آوروں کی شناخت افغانستان کے شہریوں کے طور پر ہوئی ہے۔
وزیر داخلہ کے اس بیان پرکابل میں افغان طالبان کی حکومت کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔
پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ضلعی عدالت کے باہر اور پولیس کی ایک گشتی ٹیم کے قریب ہی منگل کے روز بارود سے لدی ایک گاڑی کے ساتھ کیے گئے خود کش حملے میں 12 افراد ہلاک اور 27 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔
ڈیورنڈ لائن: پاک افغان تعلقات میں تناؤ سے عبارت مشترکہ سرحد
اسی طرح افغانستان کے ساتھ سرحد سے ملنے والے پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں وانا کے مقام پر ایک کیڈٹ کالج کے مرکزی دروازے پر دھماکہ خیز مواد سے لدی ایک گاڑی کی مدد سے کیے جانے والے خود کش بم حملے میں بھی کم ازکم تین افراد مارے گئے تھے۔
وانا ملٹری اسکول پر یہ دہشت گردانہ حملہ پیر کے روز کیا گیا تھا۔ اس حملے کے دوران مسلح حملہ آور اس کیڈٹ کالج میں داخل ہو کر وہاں مورچہ بند بھی ہو گئے تھے۔ سکیورٹی دستوں نے ان کا محاصرہ کر لیا تھا اور مجموعی طور پر ان کی سکیورٹی دستوں کے ساتھ جھڑپیں 24 گھنٹے سے بھی زیادہ دیر تک جاری رہی تھیں۔ آخرکار یہ تینوں عسکریت پسند مارے گئے تھے۔
پاکستان: ٹی ٹی پی کا حملہ، لیفٹیننٹ کرنل، میجر سمیت 11 فوجی اہلکار ہلاک
پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات حالیہ کئی ہفتوں سے انتہائی کشیدہ ہیں اور ان کے مابین گزشتہ ماہ ہونے والی سرحدی جھڑپوں میں دونوں طرف سے درجنوں فوجی اور عام شہری مارے گئے تھے۔
افغانستان سے سرگرم دہشت گرد گروہ سب سے بڑا خطرہ، پاکستان
اس کشیدگی کے خاتمے اور ایک دیرپا امن معاہدے پر اتفاق رائے کے لیے اسلام آباد اور کابل کے مابین قطر اور ترکی میں انہی دونوں ممالک کی ثالثی میں امن مذاکرات کے تین دور بھی ہو چکے ہیں، لیکن وہ بے نتیجہ ہی رہے تھے۔
ادارت: رابعہ بگٹی، عدنان اسحاق