علاقائی اتحادی ممالک حماس کو ’سیدھا کرنے‘ کے لیے تیار، ٹرمپ
وقت اشاعت 21 اکتوبر 2025آخری اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2025
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- علاقائی اتحادی ممالک بوقت ضرورت غزہ میں حماس کو ’سیدھا کرنے‘ کے لیے تیار ہیں، ٹرمپ
- یورپی یونین میں ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق نئے ضوابط، یورپی پارلیمان نے منظوری دے دی
- اسرائیل نے مزید پندرہ فلسطینیوں کی لاشیں غزہ پٹی کے حکام کے حوالے کر دیں، ریڈ کراس
- وزیر اعظم نیتن یاہو کی مصری انٹیلیجنس چیف حسن رشاد کے ساتھ یروشلم میں ملاقات
- جرمنی سے افغان باشندوں کی ملک بدری: برلن کی کابل میں طالبان سے بات چیت میں کافی زیادہ پیش رفت
- سابق فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی پانچ سالہ سزائے قید کاٹنے کے لیے جیل پہنچا دیے گئے
- غزہ سیزفائر ڈیل کی ’مسلسل خلاف ورزی،‘ قطر کے امیر کی طرف سے اسرائیل کی مذمت
علاقائی اتحادی ممالک بوقت ضرورت غزہ میں حماس کو ’سیدھا کرنے‘ کے لیے تیار ہیں، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے علاقائی اتحادی ممالک سے کہا گیا، تو وہ اپنے فوجی دستے بھیج کر غزہ پٹی میں حماس کو ’سیدھا کرنے‘ کے لیے بھی تیار ہیں۔
امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے منگل اکیس اکتوبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ غزہ امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کے لیے فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کا غیر مسلح کیا جانا لازمی ہے۔
غزہ سیزفائر ڈیل کی ’مسلسل خلاف ورزی،‘ قطر کے امیر کی طرف سے اسرائیل کی مذمت
ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول اگر حماس نے غزہ جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیاں بند نہ کیں، تو ان کا مؤثر انداز میں جواب دیا جائے گا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ان کی طرف سے درخواست پر مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اتحادی ممالک غزہ پٹی میں اپنے فوجی دستے بھیج کر حماس کو ’’سیدھا کرنے‘‘ کے لیے بھی بالکل تیار ہیں۔
ٹرمپ کی حماس کا ’صفایہ‘ کر دینے کی دھمکی
امریکی صدر نے حماس کے حوالے سے منگل کے روز دیے گئے اپنے نئے بیان سے پہلے کل پیر کے روز بھی اس فلسطینی عسکریت پسند تنظیم کو واضح طور پر ایک وارننگ دی تھی۔
غزہ میں جنگ بندی معاہدہ خطرے میں، امریکی سفارتی کوششیں تیز
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ غزہ پٹی میں دو سال تک جاری رہنے والی جنگ میں جو بہت نازک معاہدہ فائر بندی کی وجہ بنا ہے، اس کے تحت حماس کو خود پر عائد ہونے والی تمام ذمے داریاں پوری کرنا چاہییں۔
ساتھ ہی امریکی صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر حماس نے اس معاہدے کے تحت اس سے لگائی جانے والی امیدیں پوری نہ کیں، تو اس کا ’’صفایہ‘‘ کر دیا جائے گا۔
شرم الشیخ: ٹرمپ کی کس بات پر شہباز شریف مسکرا دیے
امریکہ کے کئی ’عظیم اتحادیوں‘ کا موقف
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’مشرق وسطیٰ میں اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں ہمارے کئی عظیم اتحادیوں نے مجھ سے کہا ہے کہ اگر حماس نے اپنا برا رویہ جاری رکھا، تو وہ میری درخواست پر ایسے کسی موقع کا خیر مقدم کریں گے کہ اپنی بھرپور فورسز کے ساتھ وہ غزہ پٹی میں داخل ہو کر حماس کو سیدھا کر دیں۔‘‘
غزہ میں جنگ بندی پر عمل جاری، لیکن غیر یقینی صورتحال بھی برقرار
ڈونلڈ ٹرمپ نے تاہم یہ واضح نہ کیا کہ واشنگٹن کے جن حلیف ممالک کی وہ بات کر رہے تھے، ان ’’عظیم اتحادیوں‘‘ میں کون کون سے عرب یا غیر عرب ممالک شامل ہیں۔
اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے مزید لکھا کہ انہوں نے اسرائیل اور امریکہ کے دیگر اتحادیوں کو غزہ پٹی میں حماس کے حوالے سے اب تک یہی جواب دیا ہے: ’’نہیں، ابھی نہیں۔‘‘
یورپی یونین میں ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق نئے ضوابط، یورپی پارلیمان نے منظوری دے دی
یورپی یونین کی پارلیمان نے منگل اکیس اکتوبر کو پوری یورپی یونین کے لیے ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق نئے ضوابط کی اکثریتی رائے سے منظوری دے دی۔ ان نئے قوانین کے ساتھ اب تک مروجہ قواعد میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی اور ان کا اطلاق اس بلاک کے رکن تمام 27 ممالک پر ہو گا۔
ڈرائیورلیس ٹیکسیاں اگلے برس لندن میں بھی، ویمو کا منصوبہ
برسلز میںیورپی پارلیمان کی طرف سے منظور کردہ ان نئے ضوابط کے تحت آئندہ اس بلاک میں نہ صرف ڈیجیٹل لائسنس متعارف کرائے جائیں گے بلکہ ساتھ ہی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں ڈرائیوروں کو ان کے ممالک کی قومی حدود سے باہر لیکن یونین کے کسی بھی دوسرے رکن ملک میں کیے جانے والے جرمانوں کی وصولی کا نظام بھی زیادہ بہتر اور مؤثر بنا دیا جائے گا۔
ڈرائیونگ کے شعبے میں ان قانونی اصلاحات کی رکن ممالک کی طرف سے پہلے ہی منظوری دی جا چکی تھی اور ان پر پارلیمانی مذاکرات کاروں کی سطح پر مشاورت بھی ہو چکی تھی۔
آئندہ کے لیے مجوزہ بڑی تبدیلیاں
ان جامع قانونی اصلاحات میں یہ بھی شامل ہے کہ 2030ء سے یورپی یونین کے کسی بھی رکن ملک کا ڈرائیونگ لائسنس (جو یورپی لائسنس ہوتا ہے) رکھنے والے افراد اپنے یہ لائسنس ڈیجیٹل شکل میں اپنے اسمارٹ فونز پر لوڈ بھی کر سکیں گے اور بوقت ضرورت لائسنس کی صرف یہ ڈیجیٹل صورت بھی حکام کے لیے کافی ہو گی۔
پاکستان میں ٹریفک حادثات، ہر چھ منٹ بعد ایک فرد ہلاک
یورپی پارلیمان نے جن نئے ڈرائیونگ لائسنس ضابطوں کی منظوری دے دی ہے، ان میں ڈیجیٹل لائسنس کے علاوہ یہ بھی شامل ہے کہ ٹریفک قوانین کی شدید خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوروں کا مستقبل میں یونین کے تمام رکن ممالک میں گاڑی چلانا ممنوع قرار دیا جا سکے گا۔
گاڑی کی رفتار حد سے بتیس کلومیٹر زیادہ، جرمانہ ایک لاکھ اکیس ہزار یورو
یورپی یونین، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سزا مزید سخت ہو گی
شدید نوعیت کے ان ٹریفک جرائم میں خاص طور پر شراب پی کر گاڑی چلانا اور مقررہ حد سے بہت زیادہ تیز رفتاری سے ڈرائیونگ کرنا بھی شامل ہیں۔
نئے ضوابط کے تحت اور یورپ میں افرادی قوت کی کمی کے پیش نظر، یورپی یونین میں آئندہ لاری چلانے کے اہل ڈرائیوروں کے لیے عمر کی موجودہ حد 21 سال سے کم کر کے 18 سال کر دی جائے گی۔ اسی طرح بس ڈرائیوروں کے لیے بھی کم از کم عمر کی حد موجودہ 24 سال سے کم کر کے آئندہ 21 سال کر دی جائے گی۔
جرمنی: سڑک کنارے پیشاب کرنے پر ڈرائیونگ لائسنس منسوخ
ان نئے ڈرائیونگ رولز کی حتمی منظوری کے بعد یونین کی رکن ریاستوں کے لیے اب تین سال کا وقت ہو گا کہ وہ ان ضوابط کو اپنے اپنے قومی قوانین کا حصہ بنا لیں۔
اسرائیل نے مزید پندرہ فلسطینیوں کی لاشیں غزہ پٹی کے حکام کے حوالے کر دیں، ریڈ کراس
اسرائیل نے مزید 15 فلسطینیوں کی لاشیں غزہ پٹی کے حکام کے حوالے کر دی ہیں، جس کے بعد غزہ کی جنگ میں فائر بندی معاہدے کے بعد سے اب تک اسرائیل کی طرف سے ہلاک شدہ فلسطینیوں کی واپس کی گئی لاشوں کی مجموعی تعداد 165 ہو گئی ہے۔
غزہ سیزفائر ڈیل کی ’مسلسل خلاف ورزی،‘ قطر کے امیر کی طرف سے اسرائیل کی مذمت
یروشلم میں منگل 21 اکتوبر کو بین الاقومی ریڈ کراس کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ اس تنظیم نے منگل کے دن اس عمل میں اپنی طرف سے سہولت کاری کی کہ اسرائیل مزید 15 فلسطینیوں کے لاشیں غزہ پٹی میں حکام تک پہنچا سکے۔
غزہ میں جنگ بندی معاہدہ خطرے میں، امریکی سفارتی کوششیں تیز
ریڈ کراس کے بیان میں کہا گیا، ’’بین الاقومی ریڈ کراس کمیٹی نے 15 فلسطینیوں کی لاشیں اسرائیل سے غزہ پٹی منتقل کرنے کے عمل میں مدد کی، جس کے بعد غزہ پٹی کے مقامی وزارت صحت نے بھی تصدیق کر دی کہ اسے مزید 15 فلسطینیوں کی واپس کی گئی یہ تمام لاشیں مل گئی ہیں۔‘‘
حماس کی طرف سے ہلاک شدہ اسرائیلی یرغمالیوں اور اسرائیل کی طرف سے ہلاک شدہ فلسطینیوں کی لاشوں کا یہ تبادلہ امریکہ اور دیگر ثالث ممالک کی کوششوں سے طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کا حصہ ہے۔
غزہ میں جنگ بندی پر عمل جاری، لیکن غیر یقینی صورتحال بھی برقرار
غزہ امن منصوبے کے تحت اسرائیل کو ہلاک ہونے والے ہر یرغمالی کی حماس کی طرف سے واپس کی گئی لاش کے بدلے 15 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کرنا ہیں۔
غزہ: جنگ بندی کے بعد شہریوں کی واپسی، اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیوں میں تیزی
منگل کو لوٹائی گئی فلسطینیوں کی لاشوں کے ریڈ کراس کے ذریعے غزہ بھجوائے جانے سے پہلے پیر 20 اکتوبر کو اسرائیل نے تصدیق کر دی تھی کہ اسے حماس کی طرف سے ریڈ کراس کے حوالے کی گئی اور ہلاک ہو جانے والے اسرائیلی یرغمالیوں میں سے تاحال مجموعی طور پر 13 ویں یرغمالی کی لاش مل گئی تھی۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی مصری انٹیلیجنس چیف حسن رشاد کے ساتھ یروشلم میں ملاقات
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے منگل 21 اکتوبر کے روز یروشلم میں مصر کے انٹیلیجنس چیف حسن رشاد کے ساتھ ایک ملاقات کی، جس میں زیادہ تر اس بارے میں بات چیت ہوئی کہ غزہ پٹی میں بین الاقوامی ثالثوں کی مدد سے طے پانے والے فائر بندی معاہدے کے نفاذ کو عملی طور پر مزید مضبوط کیسے بنایا جائے۔
غزہ سیزفائر ڈیل کی ’مسلسل خلاف ورزی،‘ قطر کے امیر کی طرف سے اسرائیل کی مذمت
یروشلم سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے بتایا گیا کہ مصری خفیہ سروس کے سربراہ کے ساتھ ملاقات میں ان امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو مزید آگے کیسے بڑھایا جائے اور مصر اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو فروغ دیتے ہوئے باہمی اور علاقائی امن کے لیے کوششوں کو مزید تقویت کیسے دی جائے۔
مصر کے انٹیلیجنس چیف حسن محمود رشاد منگل کے روز ہی اسرائیل پہنچے تھے، جہاں ان کو سرکردہ اسرائیلی رہنماؤں کے ساتھ کئی ملاقاتیں کرنا تھیں۔
حسن محمود رشاد کی اسٹیو وٹکوف سے بھی ملاقات
قاہرہ حکومت سے قربت رکھنے والے مصری میڈیا کے مطابق حسن رشاد کے اسرائیل کے اس دورے کا اہم ترین مقصد یہ ہے کہ غزہ پٹی کے لیے امریکی حمایت یافتہ لیکن عملاﹰ بہت نازک فائر بندی معاہدے کا زیادہ سے زیادہ مؤثر نفاذ کیسے کیا جائے۔
غزہ میں جنگ بندی معاہدہ خطرے میں، امریکی سفارتی کوششیں تیز
بتایا گیا ہے کہ حسن محمود رشاد مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے مندوب اسٹیو وٹکوف سے بھی ملیں گے، جو اس وقت اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں۔
مصر کے انٹیلیجنس چیف اسرائیل کا یہ دورہ غزہ پٹی میں اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی معاہدے پر دستخطوں کے تقریباﹰ ایک ہفتے بعد کر رہے ہیں۔
غزہ: شہباز شریف کی امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت
امریکہ، مصر اور قطر کی ثالثی سے طے پانے والے اس جنگ بندی معاہدے پر دستخط مصر کے ساحلی تعطیلاتی مقام شرم الشیخ میں ہونے والی ایک امن سربراپی کانفرنس میں کیے گئے تھے، جس میں امریکی صدر ٹرمپ اور مصری صدر السیسی سمیت 21 ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت اور اعلیٰ رہنما شامل ہوئے تھے۔
جرمنی سے افغان باشندوں کی ملک بدری: برلن کی کابل میں طالبان سے بات چیت میں کافی زیادہ پیش رفت
جرمنی سے افغان باشندوں کی ملک بدری سے متعلق معاہدے کے سلسلے میں برلن میں وفاقی جرمن حکومت اور کابل میں افغان طالبان کی حکومت کے مابین ہونے والی بات چیت میں کافی زیادہ پیش رفت ہو چکی ہے اور دونوں ممالک آپس میں ایک معاہدہ طے کر لینے کے بہت قریب ہیں۔
بون میں افغانستان قونصل خانے کے عملے نے استعفیٰ کیوں دیا؟
یہ بات وفاقی جرمن وزیر داخلہ الیکسانڈر ڈوبرنٹ نے میونخ میں بتائی اور کہا کہ برلن اور کابل کے مابین اس معاہدے کے طے پانے کے بعد یورپی یونین کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک جرمنی میں پناہ کی درخواستیں دینے والے لیکن پناہ کے حصول میں ناکام رہنے والے افغان شہریوں کو ملک بدر کر کے ان کے وطن بھیجا جا سکے گا۔
جرمنی: طالبان سفارتکاروں کو افغان مشنز میں کام کرنے کی اجازت
جرمنی سے افغان شہریوں کی ملک بدری کا معاہدہ طے پا جانے کے قریب
وزیر داخلہ ڈوبرنٹ نے کہا کہ جرمنی اور افغانستان کے مابین اس سلسلے میں ہونے والی بات اب ’’بہت اگلے مرحلے‘‘ میں ہے اور اس میں اب یہ امکانات بھی زیر بحث ہیں کہ ملک بدر کیے جانے والے افغان شہریوں کو جرمنی سے صرف خصوصی چارٹرڈ پروازوں کے ذریعے ہی نہیں، بلکہ عام مسافر پروازوں کے ذریعے بھی واپس بھیجا جا سکے گا۔
جرمنی میں مہاجرین کی تعداد میں 2011ء کے بعد سے پہلی بار کمی
الیکسانڈر ڈوبرنٹ نے صحافیوں کو بتایا، ’’ہم اپنی بات چیت کے تقریباﹰ اختتام کے قریب ہیں اور میری رائے میں پناہ کی مسترد ہو جانے والی درخواستیں دینے والے افغانستان کے شہریوں کی جرمنی سے ملک بدری کے بعد ان کے وطن واپسی مستقبل میں باقاعدگی سے کی جانے والی کارروائی بن جائے گی۔‘‘
جرمنی کے لیے افغان طالبان کے ساتھ یہ سیاسی بات چیت اس لیے بہت حساس نوعیت کی ہے کہ دنیا کے زیادہ تر ممالک کی طرح برلن نے تاحال کابل میں طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور دونوں ممالک کے مابین اس وقت کوئی باقاعدہ سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں۔
سابق فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی پانچ سالہ سزائے قید کاٹنے کے لیے جیل پہنچا دیے گئے
فرانس کے سابق صدر نکولا سارکوزی کو منگل 21 اکتوبر کی صبح ملکی دارالحکومت پیرس کی ایک جیل پہنچا دیا گیا، جہاں انہیں پانچ سالہ سزائے قید کاٹنا ہے۔ انہیں یہ سزا 2007ء کی اپنی صدارتی انتخابی مہم کے لیے غیر قانونی رقوم کے حصول کی مجرمانہ اسکیم کی وجہ سے سنائی گئی تھی۔
نکولا سارکوزی کے جیل پہنچائے جانے کے لیے پیرس کی سڑکوں پر پولیس کی حفاظت میں گاڑی میں سفر کے مناظر فرانسیسی ٹیلی وژن پر بھی دکھائے گئے۔ سارکوزی کی عمر اس وقت 70 برس ہے اور انہیں ماضی میں لیبیا کے آمر معمر قذافی سے اپنی صدارتی انتخابی مہم کے لیے رقوم حاصل کرنے کے سلسلے میں ایک مجرمانہ تنظیم کا حصہ بننے کے الزام میں عدالت نے مجرم قرار دے دیا تھا اور پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔
فرانس کے یہ سابق صدر اس مقدمے میں آخر تک اپنے خلاف الزامات سے انکار کرتے رہے تھے اور انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بھی لکھا کہ وہ بےقصور ہیں۔
سارکوزی نے ایکس پر لکھا، ’’میں عدلیہ کے اس اسکینڈل کی مذمت کرتا رہوں گا۔‘‘ ان کے بقول انہیں یہ سزا ایک ایسی طویل چھان بین کے بعد سنائی گئی، جس کی بنیاد ایک ایسی دستاویز تھی، جس کا جعلی ہونا اب ثابت ہو چکا ہے۔
پیرس کی لا سانتے جیل میں قید اور رہائی کی درخواست
نکولا سارکوزی کو منگل کی صبح وسطی پیرس کی جس جیل میں پہنچایا گیا، اس کا نام لا سانتے ہے اور وہاں وہ ایک ایسے خصوصی یونٹ میں رہیں گے، جہاں ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے، جن کو اضافی تحفظ کی ضرورت ہو۔
حکام کے مطابق جیل میں سارکوزی کے ساتھ کوئی ترجیحی سلوک نہیں کیا جائے گا لیکن یہ غالب امکان ہے کہ وہ اس جیل کے ایک ایسے حصے میں قید رہیں گے، جو دوسرے حصوں سے الگ ہے۔
اسی دوران نکولا سارکوزی کے وکیل نے کہا ہے کہ سابق صدر نے ایک بار پھر اپنے بے قصور ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور جیل پہنچتے ہی یہ باقاعدہ درخواست بھی دے دی گئی کہ انہیں جیل سے رہا کر دیا جائے۔
سارکوزی کے جیل پہنچائے جانے کے بعد ان کے وکیل کرسٹوف اِنگراں نے صحافیوں کو بتایا، ’’سابق صدر کے جیل پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد ان کی طرف سے ایک قانونی درخواست باقاعدہ طور پر جمع کرا دی گئی کہ انہیں جیل سے رہا کر دیا جائے۔‘‘
غزہ سیزفائر ڈیل کی ’مسلسل خلاف ورزی،‘ قطر کے امیر کی طرف سے اسرائیل کی مذمت
غزہ پٹی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان دو سالہ جنگ میں سیزفائر کے لیے ثالثی کرنے والے کلیدی ملک اور خلیجی عرب ریاست قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے غزہ جنگ بندی معاہدے کی ’’مسلسل خلاف ورزی‘‘ کی شدید مذمت کی ہے۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ سے منگل 21 اکتوبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق قطر کے امیر نے کہا کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کو ابھی صرف 11 روز ہوئے ہیں اور اس فلسطینی ساحلی پٹی میں اسرائیل کی طرف سے حماس کی پوزیشنوں پر کئی سلسلہ وار اور ہلاکت خیز فضائی حملے کیے بھی جا چکے ہیں۔
شیخ تمیم بن حمد الثانی نے دوحہ میں قطر کے شوریٰ کونسل کہلانے والے قانون ساز ادارے کے اجلاس سے اپنے سالانہ افتتاحی خطاب میں منگل کے روز کہا، ’’ہم ایک بار پھر اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی تمام خلاف ورزیوں اور فلسطین میں کی جانے والی جملہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں، خاص طور پر غزہ پٹی کو ایک ایسے خطے میں بدل دینے کی، جو انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہا اور جنگ بندی معاہدے کی ان خلاف ورزیوں کی، جو مسلسل کی جا رہی ہیں۔‘‘
اسرائیلی فوج کا الزام اور حماس کی طرف سے تردید
اسرائیلی فوج کے مطابق غزہ پٹی میں جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد جاری ہے، لیکن گزشتہ ویک اینڈ پر وہاں حماس کی طرف سے مبینہ طور پر اسرائیلی فوجیوں کو ایک ٹینک شکن میزائل سے حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں دو فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
اس کے فوری بعد اسرائیل نے غزہ پٹی میں اس میزائل حملے کی جگہ کے قریب حماس کی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا تھا اور فضائی حملے کیے تھے، جن میں فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق 44 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
حماس نے اپنے خلاف ان الزامات کی تردید کی تھی کہ اسرائیلی فوجیوں پر میزائل حملہ اس کے عسکریت پسندوں نے کیا تھا۔
اس میزائل حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پٹی میں اشیائے خوراک اور دیگر امدادی سامان پہنچانے کی اجازت معطل کر دی تھی، جو کل پیر 20 اکتوبر کو بحال کر دی گئی تھی۔