پاکستان: احتجاج کی بھاری قیمت، کیا گولی ہی آخری حل ہے؟
3 مارچ 2026
نومبر 2024 میں ڈی چوک پر احتجاج کے دوران پی ٹی آئی کارکنوں کی ہلاکتوں کے بعد سے یہ مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ احتجاجی مظاہروں میں لوگ جان سے جا رہے ہیں۔ جی ٹی روڈ پر ٹی ایل پی مارچ کے خلاف کارروائی میں بھی اموات ہوئیں، جبکہ پشتون تحریک کے عوامی اجتماع میں مبینہ پولیس فائرنگ سے تقریباً پانچ افراد ہلاک ہوئے۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد پاکستان بھر میں احتجاج بھڑک اُٹھے۔ ان مظاہروں میں مختلف شہروں میں کم از کم بیس سے پچیس افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر نو سے دس افراد، اسلام آباد میں دو اور گلگت-بلتستان کے شہروں گلگت اور سکردو میں متعدد افراد شامل ہیں۔
احتجاج اور ہنگاموں سے نمٹنے کے کیا طریقے ہو سکتے ہیں؟
سکیورٹی اور دیگر ماہرین اسے پاکستان کے لیے بدقسمتی قرار دے رہے ہیں کہ ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ پُرتشدد احتجاج ملک میں ایک رجحان بنتا جا رہا ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے، جبکہ دیگر کے مطابق ریاست کے پاس ہجوم کو قابو کرنے کے اور بھی طریقے موجود ہیں، جن میں بروقت اور پیشگی تیاری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
سابق انسپکٹر جنرل پولیس احسان غنی کا کہنا ہے کہ جب ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کیا گیا تو انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں کو اندازہ ہونا چاہیے تھا اور ان کے پاس واضح معلومات ہونی چاہئیں تھیں کہ ملک بھر میں کیا ردعمل سامنے آ سکتا ہے، تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حساس مقامات پر ممکنہ پُرتشدد کارروائیوں کو پیشگی روک سکتے اور جانی نقصان سے بچا جا سکتا۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات حالات اتنے اچانک اور غیر متوقع ہوتے ہیں کہ انہیں فوری طور پر قابو کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے پاس مظاہرین یا ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس جیسے ذرائع موجود ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، "ایسے واقعات کے وقت سیاسی اور مذہبی قیادت کو اعتماد میں لینا بھی ضروری ہوتا ہے، اور حالیہ معاملے میں خصوصاً شیعہ مکتب فکر کے علمائے کرام کو ساتھ ملا کر ہجوم کو پُرامن رہنے کی اپیل کی جانی چاہیے تھی۔ ان کے بقول کسی کی جان لینا آخری راستہ ہونا چاہیے، مگر بدقسمتی سے ہمارے پاس ہنگاموں سے نمٹنے کے لیے مکمل تربیت یافتہ فورس بھی موجود نہیں۔"
کیا ریاست سخت رد عمل کا فیصلہ کر چکی ہے؟
پاکستان میں کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے اور جذبات کو ہتھیار بنانے کے رجحان پر روک نہ لگائی گئی تو ہلاکتوں کے ایسے واقعات بار بار پیش آ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشرے میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں اور اسے ہر صورت روکنا ہوگا۔
بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس نوعیت کے پُرتشدد اور بے قابو احتجاج خاص طور پر پاکستان میں دیکھنے کو ملتے ہیں، جہاں بعض اوقات بلاجواز ریاستی اور نجی املاک کو اندھا دھند نقصان پہنچایا جاتا ہے، اور بالآخر ایسے اقدامات کے سنگین نتائج بھی بھگتنا پڑتے ہیں۔
تجزیہ کار ماریہ سلطان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں طویل عرصے سے جو ٹرینڈ چل رہا ہے وہ جذبات کو ہتھیار بنانا ہے۔ ان کے مطابق ہجوم کی ذہنیت کو غالب آنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اس لیے بعض مواقع پر ریاست کو سختی کرنا پڑتی ہے اور بے قابو ہجوم میں شامل افراد کو نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا، "قانون و ضابطہ قائم رکھنا کوئی ایسا خوشگوار یا خوش نما کام نہیں ہے اور ریاست کو بعض اوقات ناگوار فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ جو بھی معاشرے میں انتشار پیدا کرے گا، اسے واضح طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔" ماریہ سلطان کا یہ بھی ماننا تھا کہ پاکستان میں احتجاج کا اپنا الگ ہی ایک طریقہ ہے جس میں ''اپنے ہی ملک کی املاک کو بے انتہا نقصان پہنچانا لازمی ہے اور شاید یہ یہاں کے علاوہ کہیں اور نہیں ہوتا۔‘‘
اس کے برعکس احسان غنی سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں گو کہ سختی کرنی پڑتی ہے لیکن شاید ریاستی سطح پر عوامی ٹریننگ کی کمی بھی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی چیزوں پر بھی احتجاج ہوتا ہے جس میں ملک کا کچھ لینا دینا ہی نہیں ہوتا تو اس سلسلے میں ملکی لیڈرشپ کو عوام سے بات بھی کرنی چاہیے اور اس بات کو اجاگر کرنا چاہیے کہ آخر احتجاج ہم کر کس کے خلاف رہے ہیں۔
حالیہ تشدد اور ہلاکتوں کے واقعات کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جب عالمی سطح پر ایک اتنا بڑا واقعہ پیش آیا اور ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت ہوئی تو یہ بات تو پہلے سے طے شدہ تھی کہ جذبات میں لوگ امریکی کونصلیٹ یا سفارت خانے کا رخ کریں گے۔
اسلام آباد پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ کار محمد فیصل کہتے ہیں کہ یہ بہت عجیب ہے کہ لوگ کراچی میں کونصلیٹ کے باہر موجود ہیں اور کوئی ان کو روکنے والا ہی نہیں، اگر انہیں وہاں جانے سے روک لیا جاتا تو بہت سے لوگوں کی جان بچ سکتی تھی۔ لیکن ان کا کہنا تھا ان سب چیزوں کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کی جان و مال کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔
ادارت: جاوید اختر