ایران جنگ اور پاکستان، افغانستان کے درمیان کشیدگی
22 مارچ 2026
افغانستان میں حالیہ فضائی حملوں کے بعد پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی توجہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری تنازعے پر مرکوز ہے، جس کے باعث جنوبی ایشیا میں ابھرتا ہوا یہ بحران نسبتاً کم توجہ حاصل کر رہا ہے، حالانکہ اس کے اثرات پورے خطے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
کابل میں مہلک حملہ اور متضاد بیانات
افغان طالبان نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے سولہ فروری کی شپ کابل میں منشیات کے عادی افراد کے علاج اور بحالی کے ایک مرکز پر فضائی حملہ کیا، جس میں کم از کم 400 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
دوسری جانب پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کارروائیاں مکمل طور پر عسکری نوعیت کی تھیں اور ان کا ہدف دہشت گردوں کے ٹھکانے اور فوجی تنصیبات تھیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
تنازعے کی بنیادی وجہ، ٹی ٹی پی کا معاملہ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی اصل جڑ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجو افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں حملے کر رہے ہیں، جس کے جواب میں کارروائی ناگزیر ہو گئی ہے۔
طالبان ان الزامات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔ تاہم وہ ٹی ٹی پی کے خلاف وسیع فوجی کارروائی کرنے سے بھی گریزاں دکھائی دیتی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا بحران مزید گہرا ہو رہا ہے۔
بگرام ایئر بیس پر حملہ، ایک علامتی موڑ
اس کشیدگی میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب پاکستان نے بگرام ایئر فیلڈ کو نشانہ بنایا۔ یہ وہی اڈ۱ ہے جو 2021 تک افغانستان میں امریکی فوجی کارروائیوں کا مرکز رہا۔
بگرام پر حملہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک علامتی پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازعہ اب صرف سرحدی جھڑپوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے اسٹریٹجک نوعیت اختیار کر لی ہے۔ اگرچہ طالبان نے اس حملے کو ناکام قرار دیا، لیکن سیٹلائٹ تصاویر میں نقصان کے آثار دیکھے گئے۔
ایران جنگ کے ساتھ وقت کا تعلق
دلچسپ بات یہ ہے کہ بگرام پر حملہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف کارروائیوں میں مصروف تھے۔ اگرچہ ان دونوں تنازعات کا براہ راست تعلق نہیں، لیکن ایک ہی وقت میں کئی محاذوں پر کشیدگی کا بڑھنا خطے میں غیر یقینی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت کا انتخاب پاکستان کے لیے اسٹریٹجک فائدہ فراہم کر سکتا ہے کیونکہ عالمی توجہ کسی اور جانب مرکوز ہے۔
پاکستان اور طالبان، اتحادی سے حریف تک
ماضی میں پاکستان اور طالبان کے تعلقات قریبی سمجھے جاتے تھے۔ 1990 کی دہائی میں پاکستان ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ طالبان کی واپسی کے بعد بھی ابتدائی طور پر دونوں کے تعلقات مثبت رہے۔
تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ تعلقات خراب ہوتے گئے۔ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ اور طالبان کی جانب سے اس پر عدم آمادگی نے دونوں کے درمیان فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ سابق اتحادی ایک دوسرے کے سامنے کھڑے نظر آتے ہیں۔
علاقائی طاقتوں کا کردار اور بگرام کی اہمیت
بگرام ایئر بیس کی اہمیت صرف افغانستان تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے لیے بھی ایک اہم مقام ہے۔ اگر امریکہ دوبارہ یہاں اپنی موجودگی قائم کرتا ہے تو وہ چین، ایران، روس اور پاکستان کے قریب ایک اہم فوجی پوزیشن حاصل کر سکتا ہے۔
ایران نے بھی اس معاملے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور طالبان کے اس فیصلے کو سراہا ہے کہ انہوں نے امریکہ کو بگرام کا فوجی اڈا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ افغانستان اب بھی عالمی طاقتوں کے درمیان ایک اہم جیوپولیٹیکل میدان ہے۔
پاکستان کی حکمت عملی اور ممکنہ مقاصد
ماہرین کے مطابق پاکستان کے حالیہ اقدامات کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف پاکستان ٹی ٹی پی کے خطرے کو کم کرنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب یہ بھی ممکن ہے کہ وہ افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا چاہتا ہو۔
کچھ تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ کارروائیاں پاکستان کی اندرونی سیاسی اور معاشی مشکلات سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ بھی ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان خطے میں اپنی اسٹریٹجک اہمیت کو دوبارہ اجاگر کرنا چاہتا ہے۔
ایک وسیع جیوپولیٹیکل کھیل
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری یہ تنازع محض دو ہمسایہ ممالک کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک بڑے جیوپولیٹیکل کھیل کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ ایران، امریکہ، چین اور دیگر عالمی طاقتوں کے مفادات اس خطے میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تنازعہ عالمی سیاست کا ایک اہم موضوع بن سکتا ہے۔