ایران نے آبنائے ہرمز کو پوری طرح کھول دیا، عراقچی کا اعلان
وقت اشاعت 17 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 17 اپریل 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- ایران نے آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی جہاز رانی کے لیے پوری طرح کھول دیا، عباس عراقچی
- آبنائے ہزمر ایران جنگ میں فائر بندی ڈیل کے باقی ماندہ عرصے تک پوری طرح کھلی رہے گی
- امریکہ اور ایران میں جنگ بندی ڈیل کی بڑھتی امیدوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد کمی
- ایران جنگ میں دو ہفتے کے موجودہ سیزفائر وقفے میں توسیع کا بھی سوچا جا سکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
- سمندر سے ریسکیو کیے گئے 32 سیلرز سمیت سری لنکا سے ایرانی بحریہ کے 238 ارکان کی واپسی
- سعودی عرب سے خام تیل لے کر جانے والا جنوبی کوریائی ٹینکر بحیرہ احمر سے بخیریت نکل گیا
- پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے لبنان جنگ میں دس روزہ فائر بندی کا خیر مقدم
- لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین دس روزہ جنگ بندی پر عمل درآمد جاری، لبنانی عوام خوش
ایران نے آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی جہاز رانی کے لیے پوری طرح کھول دیا، عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 17 اپریل جمعے کی سہ پہر اعلان کیا کہ تہران نے آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ اور پوری طرح کھول دیا ہے، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کا شکریہ بھی ادا کیا۔
لبنان جنگ میں دس روزہ سیزفائر پر عمل درآمد جاری، عوام خوش
ایران جنگ کی وجہ سے پورے مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی شدید کشیدگی اور عالمی معیشت کو درپیش خطرات کے تناظر میں یہ ایرانی اعلان اتنا بڑا اور اچانک تھا کہ اس پر فوری مثبت رد عمل کے نتیجے میں دیکھتے ہی دیکھتے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں 10 فیصد کم ہو گئیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں ’تھینک یو‘ لکھا
امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف 28 فروری کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی ایران جنگ مین اس وقت دو ہفتے کی محدود اور مشروط فائر بندی جاری ہے۔ اسی فائر بندی وقفے کے دوران عالمی وقت کے مطابق جمعرات کو رات نو بجے سے لبنان جنگ میں 10 روزہ فائر بندی بھی شروع ہو گئی تھی۔
جوہری ارادے ترک کرنے پر امریکہ ایران کی ترقی میں معاون، وینس
ان دونوں واقعات کے مثبت اثرات اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی قیادت میں کی جانے والی کوششوں کی وجہ سے خاص طور پر کل جمعرات اور آج جمعے کے روز یہ امیدیں کافی بڑھ گئی تھیں کہ امریکہ اور ایران کے مابین موجودہ فائر بندی ایک دیرپا جنگ بندی معاہدے میں بھی بدل سکتی ہے۔
ایسا اسی پس منظر میں ہو اکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نےجمعے کی سہ پہر اعلان کر دیا کہ تہران نے خلیج فارس میں تیل کی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کو معمول کی کمرشل شپنگ کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے اور ایسا ایران جنگ میں فائر بندی ڈیل کے باقی ماندہ عرصے تک کے لیے کیا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران پر اقتصادی دباؤ زیادہ
اس اعلان کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں اس ایرانی اعلان کی تصدیق کی اور کہا کہ آبنائے ہرمزکو دوبارہ پوری طرح کھول دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی امریکی صدر نے اپنی پوسٹ کے آخر میں ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ’تھینک یو‘‘ بھی لکھا۔
سیزفائر وقفے کے باقی ماندہ مدت تک آبنائے ہرمز کھلی
آبنائے ہرمز کو، جہاں سے دنیا بھر کو تیل اور گیس کی برآمدات کا تقریباﹰ پانچواں حصہ گزرتا ہے، اب ہر طرح کی تجارتی مال برداری کرنے والے اور تمام ممالک کے بحری جہازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
ایران امریکہ سیزفائر ڈیل میں لبنان پر شدید اسرائیلی حملوں کے باعث دراڑیں
عباس عراقچی کے مطابق ایران نے ایسا اس لیے کیا کہ جنگ میں موجودہ سیزفائر کو مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے یہ اعلان ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کیا، جس کے چند ہی منٹ بعد اسی ایرانی اعلان کے بارے میں صدر ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ پبلش کر دی۔
پاکستان اب امریکی ایرانی مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوشاں
عراقچی نے ایکس پر لکھا، ’’آبنائے ہرمز کے پوری طرح کھول دیے جانے کا اعلان کیا جاتا ہے۔‘‘ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق یہ آبنائے ایران جنگ میں فائر بندی ڈیل کے باقی ماندہ عرصے تک پوری طرح کھلی رہے گی۔ اب تک کی صورت حال میں یہ 14 روزہ فائر بندی 22 اپریل کو ختم ہونا ہے۔
ساتھ ہی عباس عراقچی نے لکھا کہ آبنائے ہرمز کا کھولا جانا لبنان جنگ میں فائر بندی کی مناسبت سے ممکن ہوا۔
امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی ڈیل کی بڑھتی امیدوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد کمی
عالمی منڈیوں میں خام تیل کی فی بیرل قیمتوں میں 17 اپریل جمعے کے روز امریکہ اور ایران کے مابین موجودہ فائر بندی کے نتیجے میں کسی باقاعدہ جنگ بندی معاہدے کے طے پا جانے کی بڑھتی ہوئی امیدوں کے باعث پانچ فیصد سے زیادہ کی کمی دیکھنے میں آئی۔
ایران کے خلاف جنگ: تیل مہنگا، قابل تجدید توانائی محفوظ حل
جنگ کے خاتمے کی ان امیدوں کا عالمی تجارتی منڈیوں کو دوہرا فائدہ ہو رہاہے۔ بین الاقوامی اسٹاک مارکیٹوں میں شیئرز کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور بڑی اسٹاک مارکیٹوں میں بہتر کارکردگی کے مسلسل نئے ریکارڈ بنتے جا رہے ہیں۔
ایران جنگ: عالمی معیشت کے لیے ایک اور تاریک باب
امریکہ میں نیو یارک کی اسٹاک مارکیٹ، جو دنیا کا سب سے بڑا بازار حصص ہے، رواں ہفتے کے اختتام پر آج ہی مسلسل تیسری بار اپنا بزنس ویک بہت کامیابی سے ختم کرنے کے بالکل قریب ہے۔
ایران جنگ: سیزفائر وقفے میں توسیع کا سوچا جا سکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
دوسری جانب اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین طے پانے والی دس روزہ فائر بندی، جسے لبنان جنگ میں سیزفائر کا نام بھی دیا جاتا ہے، کے سبب یہ امیدیں بھی زیادہ ہوتی جا رہی ہیں کہ 22 اپریل کو مکمل ہونے والے ایران جنگ میں دو ہفتے کے فائر بندی وقفے کے ختم ہونے سے قبل امریکہ اور ایران کے مابین ایک باضابطہ جنگ بندی ڈیل بھی طے پا سکتی ہے۔
اسی وجہ سے جمعے کو عالمی منڈیوں میں خام تیل کی فی بیرل قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی، جو عالمی وقت کے مطابق بعد دوپہر تک تو تین فیصد تھی، لیکن سہ پہر کے وقت مزید کمی کے ساتھ دس فیصد ہو گئی۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ
مستقل جنگ بندی کی ان امیدوں میں امریکہ اور ایران سے ملنے والی دو رپورٹوں نے بہت اہم کردار ادا کیا۔
ان میں سے ایک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان تھا کہ وہ موجودہ سیزفائر کی دو ہفتے کی مدت پوری ہونے کے بعد اس فائر بندی وقفے میں توسیع بھی کر سکتے ہیں۔
لبنان جنگ میں دس روزہ سیزفائر پر عمل درآمد جاری، عوام خوش
ایران جنگ کے سبب غزہ کا تنازعہ بین الاقوامی توجہ سے اوجھل
دوسری طرف تہران سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے بھی کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ اپنے امن مذاکرات کے مستقبل اور نتائج کے بارے میں ’’محتاط طور پر امید پسندانہ سوچ‘‘ کا حامل ہے۔
سمندر سے ریسکیو کیے گئے 32 سیلرز سمیت سری لنکا سے ایرانی بحریہ کے 238 ارکان کی وطن واپسی
جنوبی ایشیا کی جزیرہ ریاست سری لنکا میں حکام نے 17 اپریل جمعے کے روز بتایا کہ ایرانی بحریہ کے 238 ارکان کو واپس ایران بھیج دیا گیا ہے۔ ان میں 32 ایسے ایرانی سیلرز بھی شامل ہیں، جو اس ایرانی بحری جہاز کے عملے کے ارکان تھے، جسے امریکی بحریہ نے بحر ہند میں حملہ کر کے ڈبو دیا تھا۔
پاکستان اب امریکی ایرانی مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوشاں
اس ایرانی نیول شپ کے 32 ارکان کو سری لنکا کی بحریہ نے سمندر سے بروقت ریسکیو کر لیا تھا اور وہ اب تک سری لنکا ہی میں تھے۔
ان کے شپ کو امریکہ کی ایک آبدوز نے چار مارچ کے روز ایک تارپیڈو حملہ کر کے تباہ کر دیا تھا اور یہ شپ سمندر میں ڈوب گیا تھا۔
تب یہ ایرانی بحری جہاز بھارت کی دعوت پر سمندری فوجی مشقوں میں حصہ لے کر واپس ایران لوٹ رہا تھا۔
اس جہاز پر حملے کے نتیجے میں اس کے عملے کے 87 ارکان کی لاشیں سری لنکن نیوی نے سمندر سے نکال لی تھیں، جبکہ 32 افراد کو زندہ ریسکیو کیا گیا تھا، جو بعد میں طویل عرصے تک ہسپتال میں زیر علاج رہے تھے۔
سری لنکا کا امریکی جنگی طیاروں کو اپنے ہاں زمینی رسائی دینے سے انکار
ان افراد کے علاوہ سری لنکا کی بحریہ نے بحر ہند میں ایران کے ایک اور نیول شپ کے عملے کے بیسیوں ارکان کو بھی ریسکیو کیا تھا۔ واپس ایران بھیجے جانے والے 238 ایرانی سیلرز میں بڑی تعداد اسی دوسرے جہاز کے عملے کے ارکان کی تھی۔
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران پر اقتصادی دباؤ زیادہ
کولمبو میں ملکی وزارت دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ اب سری لنکا میں ایرانی نیوی کے ارکان کی بہت ہی کم تعداد باقی ہے، اور دونوں ایرانی بحری جہازوں کے عملے کے افراد میں سے چند ایک کے سوا باقی تمام واپس ایران بھیجے جا چکے ہیں۔
سعودی عرب سے خام تیل لے کر جانے والا جنوبی کوریائی ٹینکر بحیرہ احمر سے بخیریت نکل گیا
سیول میں جنوبی کوریائی حکام کے مطابق خلیجی ملک سعودی عرب سے خام تیل لے کر جانے والا ایک جنوبی کوریائی ٹینکر جمعہ 17 اپریل کے روز بحیرہ احمر سے بخیریت گزر گیا۔ اس ٹینکر پر لدا ہوا تیل اس پر سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع سے لادا گیا تھا۔
ایران جنگ شروع ہونے اور تہران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی جہاز رانی کے لیے بند کر دیے جانے کے بعد جنوبی کوریا کی کوشش تھی کہ وہ اپنے ہاں تیل کی درآمدات کے تسلسل کے لیے خلیج فارس کے بجائے کوئی متبادل راستے تلاش کرے۔
لبنان جنگ میں دس روزہ سیزفائر پر عمل درآمد جاری، عوام خوش
اس سلسلے میں بحیرہ احمر کے علاقے میں سعودی بندرگاہ ینبع سے خام تیل کی جنوبی کوریا کو برآمد کے لیے ترسیل ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے جنوبی کوریا بھیجی جانے والی اپنی نوعیت کی پہلی سپلائی ہے۔
جنوبی کوریا کے 26 کارگو شپ ابھی تک آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے
مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے پیدا شدہ حالات میں جنوبی کوریائی صدر لی جے میونگ نے اپنے ملک کے ایک آئل ٹینکر کے بحیرہ احمر سے بحفاظت گزر جانے کے پہلے واقعے کو ایک ’’گراں قدر کامیابی‘‘ قرار دیا۔
سیول میں سمندروں اور ماہی گیری سے متعلقہ امور کی ملکی وزارت نے یہ نہیں بتایا کہ یہ آئل ٹینکر کب تک جنوبی کوریا پہنچے گا۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ تیل کی بحری مال برداری کا یہ متبادل راستہ استعمال کرنے والے جنوبی کوریائی کارگو بحری جہازوں کی تعداد کتنی ہو گی۔
ایران جنگ سے کس کو برتری ملی، کس کا اثر و رسوخ کم ہوا؟
لیکن سیول میں حکام کے بقول یہ بات مصدقہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے جنوبی کوریا کے مجموعی طور پر 26 تیل بردار بحری جہاز ابھی تک اس آبنائے میں پھنسے ہوئے ہیں۔
آبنائے ہرمز ایک بہت مصروف سمندری تجارتی راستہ ہے اور خام تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات کا تقریباﹰ پانچواں حصہ اسے راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے لبنان جنگ میں دس روزہ فائر بندی کا خیر مقدم
ایران جنگ میں امریکہ اور ایران کے مابین مسلسل ثالثی کوششیں کرنے والے ملک پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین دس روزہ سیزفائر کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ جنگ بندی خطے میں قیام امن کی کوششوں کو مزید آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہو گی۔
لبنان جنگ میں دس روزہ سیزفائر پر عمل درآمد جاری، عوام خوش
شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جمعہ 17 اپریل کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین جمعرات 16 اپریل کو عالمی وقت کے مطابق رات نو بجے سے نافذ ہونے والی فائر بندی ایک امید افزا پیش رفت ہے۔
ساتھ ہی پاکستان کے وزیر اعظم نے ایکس پر لکھا، ’’یہ جنگ بندی معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دانش مندانہ اور بہت باہمت سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوا۔‘‘
اسرائیل اور لبنان میں دس روزہ جنگ بندی پر اتفاق، ٹرمپ
پاکستان کی طرف سے لبنان کی ریاستی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت
شہباز شریف، جو ان دنوں اپنے تین ممالک کے غیر ملکی دورے کے دوران ترکی میں ہیں اور وہاں ایک سفارتی فورم میں شرکت کر رہے ہیں، نے کہا کہ یہ جنگ بندی خطے میں دیرپا امن کے قیام کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرے گی۔
اسلام آباد مذاکرات، اہم نکات کیا ہیں؟
پاکستانی سربراہ حکومت نے مزید لکھا کہ اسلام آباد لبنان کی ریاستی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور اور غیر مشروط حمایت کرتا ہے اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی کاوشیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایران امریکہ سیزفائر ڈیل میں لبنان پر شدید اسرائیلی حملوں کے باعث دراڑیں
ایران جنگ میں ابھی تک جاری دو ہفتے کی فائر بندی کے آغاز کے بعد امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی امن مذاکرات حال ہی میں پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوئے تھے، جو بے نتیجہ ہی رہے تھے۔
تاہم پاکستان اپنی ثالثی میں اب اسلام آباد ہی میں ان مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کی کوششیں کر رہا ہے۔
لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین دس روزہ جنگ بندی پر عمل درآمد جاری، لبنانی عوام خوش
اسرائیل اور ایران نواز لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مابین دس روزہ جنگ بندی پر عمل درآمد جاری ہے، جس پر لبنانی باشندے خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ جنگ بندی عالمی وقت کے مطابق جمعرات کی رات نو بجے مؤثر ہو گئی تھی۔
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران پر اقتصادی دباؤ زیادہ
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر 28 فروری کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی ایران جنگ میں مارچ کے اوائل میں ایران نواز لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر راکٹ حملے شروع کر دیے تھے، جن کے بعد اسرائیل نے لبنانی دارالحکومت بیروت، جنوبی لبنان اور وادی بیقا میں اس ملیشیا کے خلاف وسیع تر فضائی اور زمینی حملے شروع کر دیے تھے، جو قریب ڈیڑھ ماہ تک جاری رہے۔ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی دستے ابھی تک موجود ہیں۔
ایران امریکہ سیزفائر ڈیل میں لبنان پر شدید اسرائیلی حملوں کے باعث دراڑیں
ٹرمپ کی نیتن یاہو اور جوزف عون سے بات چیت
حزب اللہ کے اسرائیل پر حملوں کے ساتھ لبنان بھی ایران جنگ میں بالواسطہ طور پر شریک ہو گیا تھا۔ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں گزشتہ رات جنگ بندی سے پہلے تک 2100 سے زائد افراد ہلاک اور 6000 سے زائد زخمی جبکہ 1.2 ملین سے زیادہ بے گھر ہو چکے تھے۔
ایران جنگ سے کس کو برتری ملی، کس کا اثر و رسوخ کم ہوا؟
لبنان جنگ میں اس فائر بندی کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل جمعرات 16 اپریل کو روز کیا تھا اور کہا تھا کہ عالمی وقت کے مطابق رات نو بجے یہ جنگ 10 روز کے لیے روک دی جانا تھی۔
ایران جنگ بند مگر بیروت پر اسرائیلی حملوں میں سو سے زائد ہلاکتیں
اس اعلان سے قبل امریکہ کے صدر ٹرمپ نے ٹیلی فون پر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور لبنان کے صدر جوزف عون کے ساتھ علیحدہ علیحدہ بات چیت بھی کی تھی، جسے انہوں نے ’’شاندار گفتگوئیں‘‘ قرار دیا تھا۔
ادارت: جاوید اختر