1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایران جنگ: فائربندی مزید غیر مستحکم ہوتی ہوئی

جاوید اختر اے پی، روئٹرز، اے ایف پی، ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 11 مئی 2026آخری اپ ڈیٹ 11 مئی 2026

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے معاملے پر تعطل بدستور برقرار ہے جبکہ فائر بندی مزید غیر مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔

https://p.dw.com/p/5DZCm
ایک ایرانی خاتون تہران کے مرکزی علاقے میں ایک سرکاری عمارت کے پاس سے گزر رہی ہے، جس پر امریکہ مخالف ایک بڑا بل بورڈ آویزاں ہے۔ اس بل بورڈ پر امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کی تباہی کی علامتی تصویر دکھائی گئی ہے
ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاہدے تک پہنچنا اب بھی مشکل دکھائی دیتا ہے۔تصویر: Morteza Nikoubazl/NurPhoto/picture alliance
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • ٹرمپ نے تہران کی تازہ تجویز مسترد کردی، فائربندی مزید غیر مستحکم
  • یوکرینی بچوں کا مبینہ اغوا: روسیوں پر یورپی پابندیاں
  • امریکی حکومت اسرائیل دباؤ بڑھائے، لبنان
  • یورپی یونین اسرائیلی آباد کاروں پر پابندیوں کی حمایت کرے گی؟
  • بنوں خودکش حملہ: پاکستان نے افغان سفارتکار کو طلب کر لیا
  • غیر یقینی صورتحال: مودی کی عوام سے کفایت شعاری کی اپیل 
  • ہم نے امریکہ سے صرف اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کیا ہے، ایران
  • ایران جنگ: ٹرمپ نے تنازعہ ختم کرنے کی ایران کی تجاویز مسترد کر دیں
ٹرمپ نے تہران کی تازہ تجویز مسترد کردی، فائربندی مزید غیر مستحکم سیکشن پر جائیں
11 مئی 2026

ٹرمپ نے تہران کی تازہ تجویز مسترد کردی، فائربندی مزید غیر مستحکم

ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک عمارت پر نصب آبنائے ہرمز سے متعلق گرافک ڈیزائن والے بل بورڈ کے سامنے لوگ گزرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، جنہوں نے 28 فروری کو ٹرمپ کے ساتھ مل کر اس جنگ کا آغاز کیا تھا، نے کہا کہ یہ تنازعہ ’’ابھی ختم نہیں ہوا‘‘تصویر: Majid Asgaripour/WANA/REUTERS

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے معاملے پر تعطل مشرق وسطیٰ کو دوبارہ کھلی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے اور اس تنازعے کے باعث پیدا ہونے والا توانائی کا عالمی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی بدستور برقرار ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے موصول ہونے والی تازہ ترین تجویز کو ’بالکل ناقابل قبول‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا، ’’ایران کی نام نہاد قیادت کی جانب سے ملنے والے ردعمل کو پڑھا ہے۔ یہ بالکل ناقابل قبول ہے۔ مجھے یہ پسند نہیں۔‘‘

ایران نے امریکہ تک اپنی تجویر پاکستان کے ذریعہ بھجوائی تھی۔ ایرانی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا، ’’ہم نے کسی قسم کی رعایت کا مطالبہ نہیں کیا۔ ہم نے صرف ایران کے جائز حقوق کا مطالبہ کیا ہے۔‘‘

اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے چین کے دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ پر زور دینے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ ایران کو رعایتیں دینے اور اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ میرین ون پر روانہ ہونے سے قبل وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان سےصحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے موصول ہونے والی تازہ ترین تجویز کو ’بالکل ناقابل قبول‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔تصویر: Jen Golbeck/SOPA Images/ZUMA/picture alliance

چین اسلامی جمہوریہ ایران کے پابندیوں کے شکار خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، جس کے باعث اسے اس معاملے میں خاص اثر و رسوخ حاصل ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاہدے تک پہنچنا اب بھی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے امریکہ کو اپنی ناکہ بندی ختم کرنا اور پابندیاں اٹھانا ہوں گی۔
 
دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل چاہتے ہیں کہ ایران کے پاس موجود اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کو ملک سے منتقل کر دیا جائے، کیونکہ اگر ایران چاہے تو اسے ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

تہران کا کہنا ہے کہ اس کا پروگرام پرامن ہے لیکن اس نے یورینیم کو شہری توانائی کی ضروریات سے زیادہ سطح تک افزودہ کیا ہے۔

دریں اثنا اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، جنہوں نے 28 فروری کو ٹرمپ کے ساتھ مل کر اس جنگ کا آغاز کیا تھا، نے کہا کہ یہ تنازعہ ’’ابھی ختم نہیں ہوا‘‘۔ نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل اور امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ ’’ہم دوبارہ فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔‘‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ ایرانی حکومت کے ’دن گنے جا چکے ہیں، البتہ اس میں کافی وقت لگ سکتا ہے‘۔

https://p.dw.com/p/5DbaL
یوکرینی بچوں کا مبینہ اغوا: روسیوں پر یورپی پابندیاں سیکشن پر جائیں
11 مئی 2026

یوکرینی بچوں کا مبینہ اغوا: روسیوں پر یورپی پابندیاں

ایک یوکرینی ناشر اور تاجر اپنی پرنٹنگ پریس میں بچوں کی کتاب دکھا رہا ہے، جنہیں روسی میزائل حملے میں شدید نقصان پہنچا تھا
یورپی کونسل کے اندازے کے مطابق اب تک تقریباً 20 ہزار 500 یوکرینی بچوں کو جبری طور پر منتقل یا بے دخل کیا جا چکا ہےتصویر: Valentyn Ogirenko/REUTERS

یورپی یونین نے یوکرینی بچوں کے مبینہ اغوا اور جبری منتقلی میں ملوث 16 روسی افراد اور 7 اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ برطانیہ نے بھی نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے جبکہ جرمن وزیر دفاع ایک غیر مستحکم فائربندی کے دوران کییف کا دورہ کر رہے ہیں۔

یورپی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ وہ  ایسے 16 روسی افراد اور 7 اداروں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے، جو ’’یوکرین کے کم سن بچوں کی منظم غیر قانونی بے دخلی، جبری منتقلی اور جبری انضمام کے ذمہ دار ہیں۔‘‘

کونسل کے مطابق یہ افراد اور ادارے بچوں کی ’’غیر قانونی گود لینے اور انہیں ایسی روسی فیڈریشن یا عارضی طور پر زیر قبضہ علاقوں میں منتقل کرنے‘‘ میں بھی ملوث ہیں، جو بین الاقوامی سطح پر یوکرین کا حصہ تسلیم کیے جاتے ہیں لیکن اس وقت روس کے کنٹرول میں ہیں۔

یورپی کونسل کے اندازے کے مطابق اب تک تقریباً 20 ہزار 500 یوکرینی بچوں کو جبری طور پر منتقل یا بے دخل کیا جا چکا ہے۔

کونسل نے کہا، ’’یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں اور بچوں کے بنیادی حقوق کی پامالی ہیں۔ ان کا مقصد یوکرینی شناخت کو مٹانا اور آئندہ نسلوں کے تحفظ کو کمزور کرنا ہے۔‘‘

بچوں کے مبینہ اغوا کا یہی معاملہ اس بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ گرفتاری کی بنیاد بھی ہے، جو روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے خلاف جاری کیا گیا تھا۔

یورپی یونین نے روسی وزارت تعلیم سے منسلک متعدد اداروں اور افراد کو بھی فہرست میں شامل کیا ہے، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں، جو مقبوضہ یوکرینی علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔

کونسل کے مطابق ان افراد اور اداروں کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں، جبکہ افراد پر سفری پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ مزید یہ کہ یورپی شہریوں اور کمپنیوں کو ان کے ساتھ کاروبار کرنے یا انہیں مالی وسائل فراہم کرنے سے بھی منع کر دیا گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/5DbZG
امریکی حکومت اسرائیل پر دباؤ بڑھائے، لبنان سیکشن پر جائیں
11 مئی 2026

امریکی حکومت اسرائیل پر دباؤ بڑھائے، لبنان

جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے کے بعد دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے
لبنان کی وزارت صحت نے بتایا کہ 2 مارچ سے اب تک مجموعی طور پر 2,869 افراد ہلاک ہو چکے ہیںتصویر: Karamallah Daher/REUTERS

لبنان کے صدر نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل پر جنگ بندی کا احترام اور جنوبی لبنان میں گھروں کی مسماری روکنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ دریں اثنا لبنان پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ تین دنوں میں اسرائیلی حملوں میں 74 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ آزادانہ ذرائع سے ان اعدادوشمار کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
 
یاد رہے کہ ایران کے حمایت یافتہ لبنانی جنگجو گروہ حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان گزشتہ ماہ فائر بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم دونوں فریق ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

تہران نے کہا ہے کہ اس نے امریکہ کے ساتھ وسیع تر جنگکے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز کے تحت لبنان کی سکیورٹی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ 2 مارچ کو اس وقت دوبارہ بھڑک اٹھا تھا، جب اس گروہ نے تہران کی حمایت میں اسرائیل پر فائرنگ کی۔ واضح رہے کہ یورپی یونین، امریکہ اور متعدد مغربی ممالک حزب اللہ کو دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں۔

16 اپریل کو ٹرمپ کی جانب سے فائر بندی کے اعلان کے باوجود جھڑپیں جاری ہیں، خاص طور پر جنوبی لبنان میں، جہاں اسرائیل نے ایک خود ساختہ سکیورٹی زون قائم کر رکھا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد حزب اللہ کے حملوں سے بچاؤ ہے۔
قبل ازیں اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے متعدد دیہات کے رہائشیوں کو انخلا کی ہدایات جاری کی تھیں اور خبردار کیا تھا کہ حزب اللہ  کی جانب سے جنگ بندی کی ’’خلاف ورزی‘‘ کے بعد وہ سخت کارروائی کرے گی۔

وزارت نے بتایا کہ 2 مارچ سے اب تک مجموعی طور پر 2,869 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 584 طبی عملہ، خواتین اور کم عمر افراد شامل ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں کتنے جنگجو شامل ہیں۔

https://p.dw.com/p/5DbRa
یورپی یونین اسرائیلی آباد کاروں پر پابندیوں کی حمایت کرے گی؟ سیکشن پر جائیں
11 مئی 2026

یورپی یونین اسرائیلی آباد کاروں پر پابندیوں کی حمایت کرے گی؟

یورپی یونین کی اعلی سفارت کار کایا کالاس برسلز میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے
کایا کالاس نے تسلیم کیا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے خلاف مزید سخت اقدامات کے لیے اس وقت یورپی ممالک کے درمیان خاطر خواہ اتفاق رائے موجود نہیں ہےتصویر: Virginia Mayo/AP Photo/dpa/picture alliance

یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کایا کالاس نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں پر اضافی پابندیوں کی حمایت کریں گے۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کالاس نے پیر کے روز برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچنے پر کہا، ’’مجھے پرتشدد آباد کاروں پر پابندیوں کے حوالے سے سیاسی اتفاق رائے کی توقع ہے۔ امید ہے ہم اس تک پہنچ جائیں گے۔‘‘

مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع میں ملوث افراد اور تنظیموں کے اثاثے منجمد کرنے اور سفری پابندیاں عائد کرنے کے منصوبے تعطل کا شکار ہیں، کیونکہ سابق وزیر اعظم وکٹور اوربان کی قیادت میں ہنگری نے اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔

اطالوی وزیر خارجہ نے کہا کہ بودا پیسٹ میں حکومت کی تبدیلی کے بعد اب کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن ہو گیا ہے۔

تاہم کالاس نے تسلیم کیا کہ اس وقت یورپی ممالک کے درمیان مزید سخت اقدامات کے لیے خاطر خواہ اتفاق رائے موجود نہیں، کیونکہ کچھ ممالک اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیاء کی تجارت محدود کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سویڈن کی وزیر خارجہ ماریا مالمر اسٹینرگار نے ایسی درآمدات پر ٹیرف عائد کرنے کے ساتھ ساتھ "ان اسرائیلی وزراء پر پابندیاں لگانے" کا مطالبہ کیا ہے، جو ان بستیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔

جرمنی کے وزیر مملکت گنٹر کرِش باؤم نے کہا کہ برلن اسرائیل کے ساتھ مکالمہ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

https://p.dw.com/p/5Db4P
بنوں خودکش حملہ: پاکستان نے افغان سفارتکار کو طلب کر لیا سیکشن پر جائیں
11 مئی 2026

بنوں خودکش حملہ: پاکستان نے افغان سفارتکار کو طلب کر لیا

پاکستان دفتر خارجہ
پاکستان نے ایک بار پھر اس بات پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہےتصویر: Anjum Naveed/AP Photo/picture alliance

اسلام آباد نے پیر کے روز ملک میں تعینات افغانستان کے اعلیٰ سفارت کار کو طلب کرکے ایک بار پھر اس بات پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کے شمال مغربی علاقے بنوں میں ایک چیک پوسٹ پر خودکش حملہ آور کے ذریعے کار بم دھماکہ کے بعد ہوئی ہے۔ 

مقامی حکام کے مطابق ہفتے کے روز رونما ہونے والے اس واقعے میں شدت پسندوں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ افغان ناظم الامور کو طلب کیا گیا اور انہیں آگاہ کیا گیا کہ اس واقعے کی تفصیلی تحقیقات، جمع کیے گئے شواہد اور تکنیکی انٹیلی جنس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حملہ افغانستان میں مقیم دہشت گردوں نے منصوبہ بندی کے تحت کیا۔

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے ایک بار پھر اس بات پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور افغان حکام پر واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان اس بربریت کے ذمہ دار عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا، ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مشترکہ مقصد ہے اور افغان طالبان کو اپنے اس عہد کی پاسداری کرنی چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

https://p.dw.com/p/5Db0l
غیر یقینی صورتحال: مودی کی عوام سے کفایت شعاری کی اپیل سیکشن پر جائیں
11 مئی 2026

غیر یقینی صورتحال: مودی کی عوام سے کفایت شعاری کی اپیل

وزیر اعظم نریندر مودی حیدرآباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے
اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے عوام سے کفایت شعاری کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے اسے حکومتی پالیسی کی "ناکامی" قرار دیاتصویر: ANI News/IMAGO

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایندھن اور خوردنی تیل کے استعمال میں کمی کریں اور غیر ضروری بیرونِ ملک سفر کم کر کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بچائیں۔ اپوزیشن نے تاہم اسے حکومتی پالیسیوں کی ناکامی قرار دیا ہے۔

مودی نے یہ اپیل اتوار کے روز اس وقت کی جب ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امن تجاویز پر امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل برقرار ہے اور اس تنازعے کے باعث عالمی سپلائی چین میں خلل بھی جاری ہے۔

وزیراعظم نے عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی ترغیب دی۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ کورونا وبا کے دوران اپنائے جانے والے ورک فرام ہوم کے کلچر کو دوبارہ فروغ دیا جائے، کیونکہ اس سے ملک میں ایندھن کی کھپت کم ہو گی۔ 

مودی نے بھارتیوں پر زور دیا کہ وہ بیرونِ ملک غیر ضروری سفر، بشمول ڈیسٹینیشن ویڈنگز، مؤخر کریں اور کم از کم ایک سال تک سونے کی غیر ضروری خریداری سے گریز کریں تاکہ زرمبادلہ پر بوجھ کم ہو۔

انہوں نے بھارتی عوام سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ کھانے کے تیل کے استعمال میں کمی کریں اور انہوں نے اس اقدام کو صحت بخش اور حب الوطنی کے تقاضوں کے مطابق قرار دیا۔

بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے پیر کے روز وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے عوام سے طرزِ زندگی میں تبدیلی کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے اسے حکومتی پالیسی کی "ناکامی" قرار دیا۔

پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کہا کہ مودی کی یہ اپیل "ناکامی کا ثبوت" ہے۔

https://p.dw.com/p/5DaWb
ہم نے امریکہ سے صرف اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کیا ہے، ایران سیکشن پر جائیں
وقت اشاعت 11 مئی 2026آخری اپ ڈیٹ 11 مئی 2026

ہم نے امریکہ سے صرف اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کیا ہے، ایران

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
ایران نے پاکستان کے ذریعے اتوار کو امریکہ کی تازہ ترین تجویز کا جواب بھیجا تھاتصویر: Majid Asgaripour/WANA/REUTERS

ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس نے امریکہ کی تازہ ترین تجویز کے جواب میں خطے میں جاری جنگ کے خاتمے اور بیرون ملک منجمد اثاثوں کے انجماد کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا، ’’ہم نے کسی قسم کی رعایت کا مطالبہ نہیں کیا۔ ہم نے صرف ایران کے جائز حقوق کا مطالبہ کیا ہے۔‘‘

پیر کے روز انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ایرانی تجویز جائز اور فراخدلانہ ہے جبکہ امریکہ اب بھی غیر معقول اور یکطرفہ مطالبات پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے مطالبات میں خطے میں جنگ کا خاتمہ، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، اور ایرانی عوام کے وہ اثاثے، جو برسوں سے غیر ملکی بینکوں میں ناجائز طور پر پھنسے ہوئے ہیں، ان کا انجماد ختم کرنا شامل ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تازہ ترین ایرانی تجویز ’بالکل ناقابل قبول‘ قرار دے کر مسترد کر دی ہے۔ سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا،’’میں نے ایران کی نام نہاد قیادت کی جانب سے ملنے والے ردعمل کو پڑھا ہے۔ یہ بالکل ناقابل قبول ہے۔ مجھے یہ پسند نہیں۔‘‘

ایران نے پاکستان کے ذریعے اتوار کو امریکہ کی تازہ ترین تجویز کا جواب بھیجا تھا۔

https://p.dw.com/p/5DZsJ
ایران جنگ: ٹرمپ نے تنازعہ ختم کرنے کی ایران کی تجاویز مسترد کر دیں سیکشن پر جائیں
وقت اشاعت 11 مئی 2026آخری اپ ڈیٹ 11 مئی 2026

ایران جنگ: ٹرمپ نے تنازعہ ختم کرنے کی ایران کی تجاویز مسترد کر دیں

سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا،’’میں نے ایران کی نام نہاد قیادت کی جانب سے ملنے والے ردعمل کو پڑھا ہے۔ یہ بالکل ناقابل قبول ہے۔ مجھے یہ پسند نہیں۔‘‘

ایران نے پاکستان کے ذریعے اتوار کو امریکہ کی تازہ ترین تجویز کا جواب بھیجا تھا، جس کا مقصد ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنا تھا۔

سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا،’’میں نے ایران کی نام نہاد قیادت کی جانب سے ملنے والے ردعمل کو پڑھا ہے۔ یہ بالکل ناقابل قبول ہے۔ مجھے یہ پسند نہیں۔‘‘

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی امن تجویز پر ایران کے ردعمل کو فوری طور پر مسترد کرنے کے بعد پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ نوٹ کیا گیا کیونکہ خدشہ ہے کہ 10 ہفتوں سے جاری یہ تنازعہ مزید طول پکڑ سکتا ہے اور آبنائے ہرمز سے جہاز رانی معطل رہ سکتی ہے۔

جنگ شروع ہونے سے پہلے 28 فروری تک اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے تقریباً بیس تا پچیس فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی تاہم آبنائے ہرمز کی ایرانی بندش کی وجہ سے یہ ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔

امریکہ نے تجویز دی تھی کہ متنازعہ معاملات، بشمول ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت شروع کرنے سے پہلے لڑائی ختم کی جائے۔ واشنگٹن نے جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی بھی بات کہی تھی۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کرتے ہوئے
ایران نے پاکستان کے ذریعے اتوار کو امریکہ کی تازہ ترین تجویز کا جواب بھیجا تھا، جس کا مقصد جنگ کو ختم کرنا تھاتصویر: Pakistan Prime Minister Office/AP Photo/dpa/picture alliance

ایران کا ردعمل کیا تھا؟

مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایران نے اتوار کو ثالث ملک پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو جواب بھیجا، جس میں تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے پر زور دیا گیا، خصوصاً لبنان میں جہاں امریکہ کا اتحادی اسرائیل، ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجوؤں سے لڑ رہا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق تہران نے جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ بھی شامل کیا اور آبنائے ہرمز پر ایرانی خودمختاری پر زور دیا۔

نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایرانی تجویز میں امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے، مزید حملے نہ کرنے کی ضمانت دینے، ایرانی تیل کی فروخت پر امریکی پابندی ختم کرنے اور ضبط شدہ ایرانی اثاثے واپس کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

ٹرمپ نے ایرانی جواب کو مسترد کرتے ہوئے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ اس سے قبل ایک اور پوسٹ میں انہوں نے تہران پر الزام لگایا کہ وہ تقریباً پچاس برس سے امریکہ کے ساتھ ’’کھیل رہا‘‘ ہے، ’’اب وہ (ایرانی حکام) ہنس نہیں سکیں گے۔‘‘

دریں اثنا ایران کے پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ ایران ’’کبھی بھی دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا اور قومی مفادات کا مضبوطی سے دفاع کرے گا۔‘‘

ایرانی سرکاری میڈیا نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی امریکی تجویز کو ’’ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش‘‘ قرار دیا۔

ایران کے ساتھ اس تنازعے میں امریکہ کو بین الاقوامی سطح پر زیادہ حمایت حاصل نہیں ہو سکی ہے، کیونکہ نیٹو اتحادیوں نے مکمل امن معاہدے اور بین الاقوامی طور پر منظور شدہ مشن کے بغیر آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔

ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ آئندہ کون سے نئے سفارتی یا عسکری اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

ادارت: عاطف بلوچ

https://p.dw.com/p/5DZCy
مزید پوسٹیں
Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔